حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 761 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 761

761 ضرورت اور اہمیت اصول تفسیر قرآن کریم صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے ساتھ تغیر نہ ہو مثلاً غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔كکی نسبت کسی کو کیا سمجھ آ سکتا ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں جب تک کہ کھول کر نہ بتلایا جاوے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کر کے خدا کا غضب کمایا۔ایسے ہی آخری زمانہ میں اس امت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا غضب کما نا تھا اسی لیے اول ہی ان کو بطور پیشگوئی کے اطلاع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچ سکیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 449) ام يقولون انا لا نرى ضرورة مسيح ولا مهدى وكفانا القرآن و انا مهتدون و يعلمون ان القرآن كتاب لا يمسه الا المطهرون (الواقعة : 80) فاشتدت الحاجة الى مفسر زکی من ايدى الله و ادخل في الذين يبصرون۔ترجمہ :۔کہتے ہیں کہ ہم کو مسیح اور مہدی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ قرآن ہمارے لئے کافی ہے اور ہم سیدھے رستے پر ہیں۔حالانکہ جانتے ہیں کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ سوائے پاکوں کے اور کسی کی فہم اس تک نہیں پہنچتی۔اس وجہ سے ایک ایسے مفسر کی حاجت پڑی کہ خدا کے ہاتھ نے اسے پاک کیا ہو۔اور بینا بنایا ہو۔(خطبہ الہامیہ۔رخ- جلد 16 صفحہ 184-183) حضرت مسیح موعود علیہ السلام :۔یہ خدا کا بڑا فضل ہے اور خوش قسمتی آپ کی ہے کہ آپ ادھر آ نکلے۔یہ بات واقعی سچ ہے کہ جو مسلمان ہیں یہ قرآن شریف کو بالکل نہیں سمجھتے لیکن اب خدا کا ارادہ ہے کہ صحیح معنے قرآن کے ظاہر کرے خدا نے مجھے اسی لیے مامور کیا ہے اور میں اس کے الہام اور وحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں قرآن شریف کی ایسی تعلیم ہے کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں آ سکتا۔اور معقولات سے ایسی پُر ہے کہ ایک فلاسفر کو بھی اعتراض کا موقعہ نہیں ملتا مگر ان مسلمانوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی طرف سے ایسی ایسی باتیں بنا کر قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے قدم قدم پر اعتراض وارد ہوتا ہے اور ایسے دعاوی اپنی طرف سے کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اور وہ سراسر اس کے خلاف ہیں مثلاً اب یہی واقعہ صلیب کو دیکھو کہ اس میں کسقد رافتراء سے کام لیا گیا ہے اور قرآن کریم کی مخالفت کی گئی ہے اور یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بھی برخلاف ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 451-450)