حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 753 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 753

753 وہ دور ہیں خدا سے جو تقویٰ سے دور ہیں ہر دم اسیر نخوت و کبر و غرور ہیں تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اس یار کے لئے رہ عشرت کو چھوڑ دو لعنت کی ہے یہ راہ سولعنت کو چھوڑ دو ورنہ خیال حضرت عزت کو چھوڑ دو در مشین اردو صفحہ 103-102 ) ( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 21 صفحہ 18-17 ) فہم قرآن۔پاک اور مطہر زندگی مطہرین کی علامتوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان علامت ہے کہ علم معارف قرآن حاصل ہو کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الوقعة: 80) (ازالہ اوھام۔رخ۔جلد 3 صفحہ 443) دینی علم اور پاک معارف کے سمجھنے اور حاصل کرنے کے لئے پہلے سچی پاکیزگی کا حاصل کر لینا اور ناپاکی کی راہوں کا چھوڑ دینا از بس ضروری ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی خدا کی پاک کتاب کے اسرار کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو پاک دل ہیں اور پاک فطرت اور پاک عمل رکھتے ہیں دنیوی چالاکیوں سے آسمانی علم ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے۔قرآنی حقائق صرف انہی لوگوں پر کھلتے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف اور پاک کرتا ہے ست بیچن۔۔۔خ۔جلد 10 صفحہ 126) ( براہین احمدیہ - رخ۔جلد 1 صفحہ 613 حاشیہ نمبر (3) یک قدم دوری ازاں روشن کتاب نزد ما کفر است و خسران و تاب اس نورانی کتاب سے ایک قدم بھی دور رہنا ہمارے نزدیک کفروزیاں اور ہلاکت ہے۔ہر دلے از سر آن آگاه نیست لیک دوناں را بمغرش راه نیست لیکن ذلیل لوگوں کو قرآن کی حقیقت کی خبر نہیں ہر ایک دل اس کے بھیدوں سے واقف نہیں ہے۔تا نباشد طالبے پاک اندروں تا نجوشد عشق یار بے چکوں! جب تک طالب حق پاک باطن نہیں ہوتا اور جب تک اس یار بے مثال کا عشق اس کے دل میں جوش نہیں مارتا۔راز قرآن را کجا فهمد کسے بہر نورے نور می باید بسے! تب تک کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے نور کے سمجھنے کے لیے بہت سا نور باطن ہونا چاہیئے۔اں نہ من قرآن ہمیں فرموده است و شرط تطهر بوده است یہ میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے پاک ہونے کی شرط ہے۔گر بقرآں ہر کسے را راه بود اگر ہر شخص قرآن خود سمجھ سکتا۔تو خدا نے تطہیر کی شرط کیوں زائد لگائی۔اندر پس چرا شرط تظهر را فزود نور را داند کسے کو نور شد واز حجاب سر کشی با دور شد نور کو وہی شخص سمجھتا ہے جو خود نور ہو گیا ہو۔اور سرکشی کے حجابوں سے دور ہو گیا ہو۔در مشین فارسی مترجم صفحه 227-226) (سراج منیر - ر-خ- جلد 12 صفحہ 96)