حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 740 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 740

740 تقوی علوم دینیہ کی کلید ہے قرآن شریف نے شروع میں ہی فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِینَ۔پس قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لیے تقویٰ ضروری اصل ہے ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں۔ریاضی۔ہندسہ و ہیت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والا ضر و متقی اور پرہیز گار ہو بلکہ وہ کیسا ہی فاسق وفاجر ہی ہو وہ بھی سیکھ سکتا ہے مگر علم دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے جس کا دل خراب ہے اور تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتا ہے کہ علوم دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتا ہے ہرگز ہرگزا سے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لیے متقی ہونا شرط ہے جیسا کہ یہ فارسی شعر ہے عروس حضرت قرآن نقاب آنگاه بر دارد که دارالملک معنے را کند خالی زہر غوغا ترجمہ: قرآن کی دلہن اس وقت نقاب اٹھاتی ہے جبکہ انسان اپنے ذہن کو خیالات سے خالی کر لیتا۔جب تک یہ بات پیدا نہ ہو اور دارالملک معنے خالی نہ ہو وہ غوغا کیا ہے؟ یہی فسق و فجور دنیا پسندی ہے۔ہاں یہ جدا امر ہے کہ چور کی طرح کچھ کہلائے تو کہدے لیکن جو روح القدس سے بولتے ہیں وہ بجز تقومی کے نہیں بولتے۔یہ خوب یادرکھو کہ تقوی تمام دینی علوم کی کنجی ہے انسان تقویٰ کے سوا ان کو نہیں سیکھ سکتا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمايا الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یہ کتاب تقومی کرنے والوں کو ہدایت کرتی ہے اور وہ کون ہیں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔یعنی ابھی وہ خدا نظر نہیں آتا۔اور پھر نماز کوکھڑی کرتے ہیں یعنی نماز میں ابھی پورا سرور اور ذوق پیدا نہیں ہوتا تاہم بے لطفی اور بے ذوقی اور وساوس میں ہی نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ تجھ پر یا تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 122-121) الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرِيَةِ وَالْإِنْجِيلِ۔(الاعراف: 158) چالاکی سے علوم القرآن نہیں آتے۔دماغی قوت اور دینی ترقی قرآنی علوم کو جذب کرنے کا اکیلا باعث نہیں ہو سکتا اصل ذریعہ تقویٰ ہی ہے متقی کا معلم خدا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر امیت غالب ہوتی ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے اُمی بھیجا کہ باوجود یکہ آپ نے نہ کسی مکتب میں تعلیم پائی اور نہ کسی کو استاد بنایا۔پھر آپ نے وہ معارف اور حقائق بیان کیے جنہوں نے دنیوی علوم کے ماہروں کو دنگ اور حیران کر دیا قرآن شریف