حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 739
739 چوتھی فصل فہم قرآن اور تقویٰ الَم۔ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔(البقرة:32) ترجمہ:۔الف لام میم یہ ( کامل ) کتاب ہے نہیں کوئی شک ( کی بات ) جس میں ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔اور یہ بات بدیہی ہے کہ جب تک انسان اپنے اخلاق رڈیہ کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک ان اخلاق کے مقابل پر جو اخلاق فاضلہ ہیں جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں ان کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ دوضڈین ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔اس کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی ابتداء میں اس نے فرمایا۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی قرآن شریف ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو متقی ہیں۔یعنی وہ لوگ جو تکبر نہیں کرتے اور خشوع اور انکسار سے خدا تعالیٰ کے کلام میں غور کرتے ہیں وہی ہیں جو آخر کو ہدایت پاتے ہیں۔قرآنی علوم کے انکشاف کے لیے تقویٰ شرط ہے ( براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 230 ) مگر علوم آسمانی اور اسرار قرآنی کی واقفیت کے لیے تقویٰ پہلی شرط ہے۔اس میں تو بتہ النصوح کی ضرورت ہے۔جیتک انسان پوری فروتنی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ اٹھا لے۔اور اس کے جلال و جبروت سے لرزاں ہو کر نیاز مندی کے ساتھ رجوع نہ کرے۔قرآنی علوم کا دروازہ نہیں کھل سکتا اور روح کے ان خواص اور قومی کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے علوم خدا کے ہاتھ میں ہیں۔پس اس کے لیے تقویٰ بطور نردبان کے ہے پھر کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ بے ایمان شریر خبیث النفس۔ارضی خواہشوں کے اسیران سے بہرہ ور ہوں۔اس واسطے اگر ایک مسلمان مسلمان کہلا کر خواہ وہ صرف و نحو معانی و بدیع وغیرہ علوم کا کتنا ہی بڑا فاضل کیوں نہ ہو۔دنیا کی نظر میں شیخ الکل فی الکل بنا بیٹھا ہو لیکن اگر تزکیہ نفس نہیں کرتا، تو قرآن شریف کے علوم سے اس کو حصہ نہیں دیا جاتا۔( ملفوظات جلد اول صفحه (283)