حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 718
718 وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (الانعام: 39) ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں کیونکہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے۔وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل: 90) یعنے ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز کا بیان ہے۔اور پھر فرماتا ہے مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام: 39) یعنی ہم نے اس کتاب سے کوئی چیز باہر نہیں رکھی۔لیکن ساتھ اس کے یہ بھی میرا اعتقاد ہے کہ قرآن کریم سے تمام مسائل دینیہ کا استخراج واستنباط کرنا اور اسکی مجملات کی تفاصیل صحیحہ پر حسب منشاء الہی قادر ہر ایک مجتہد اور مولوی کا کام نہیں بلکہ یہ خاص طور پر انکا کام ہے جو وحی الہی سے بطور نبوت یا بطور ولایت عظمے مدد دیئے گئے ہوں۔سو ایسے لوگوں کیلئے جو استخراج و استنباط معارف قرآنی پر بعلت غیر ملہم ہونے کے قادر نہیں ہو سکتے یہی سیدھی راہ ہے کہ وہ بغیر قصد استخراج و استنباط قرآن کے ان تمام تعلیمات کو جو سنن متوارثہ متعاملہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔بلا تامل و توقف قبول کر لیں۔اور جو لوگ وحی ولایت عظمی کی روشنی سے منور ہیں اور الا المطہرون کے گروہ میں داخل ہیں ان سے بلاشبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتا فوقتادقائق مخفیہ قرآن کے ان پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات ان پر ثابت کردیتا ہے کہ کوئی زاید تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز نہیں دی۔بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات و اشارات قرآن کریم کی تفصیل ہے سومعرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم ان پر کھل جاتا ہے اور نیز ان آیات بینات کی سچائی ان پر روشن ہو جاتی ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔اگر چہ علماء ظاہر بھی ایک قبض کی حالت کے ساتھ ان آیات پر ایمان لاتے ہیں تا ان کی تکذیب لازم نہ آوے۔لیکن وہ کامل یقین اور سکینت اور اطمینان جو ملہم کامل کو بعد معائنہ مطابقت و موافقت احادیث صحیحہ اور قرآن کریم اور بعد معلوم کرنے اس احاطہ نام کے جو درحقیقت قرآن کو تمام احادیث پر ہے ملتی ہے وہ علماء ظاہر کو کسی طرح مل نہیں سکتی۔بلکہ بعض تو قرآن کریم کو ناقص و نا تمام خیال کر بیٹھتے ہیں اور جن غیر محدود صداقتوں اور حقائق اور معارف پر قرآن کریم کے دائمی اور تمامتر اعجاز کی بنیاد ہے اس سے وہ منکر ہیں اور نہ صرف منکر بلکہ اپنے انکار کی وجہ سے ان تمام آیات بینات کو جھٹلاتے ہیں جن میں صاف صاف اللہ جلشانہ نے فرمایا ہے کہ قرآن جميع تعلیمات دینیہ کا جامع ہے!!! (الحق - مباحثہ لدھیانہ - ر-خ- جلد 4 صفحہ 81-80) یہ اول فضیلت اور کمال کسی ولی کا یہ ہے کہ علم قرآن اس کو عطا کیا جائے کیونکہ وہی تو ہم مسلمان لوگوں کا متداد پیشوا ہادی و رہنما ہے۔اگر اسی سے بیخبری ہوئی تو پھر قدم قدم پر ہلاکت اور موت موجود ہے جس پر خدا تعالیٰ نے یہ مہربانی نہ کی جو اپنے پاک کلام کا علم اس کو عطا کرتا اور اس کے حقائق سے اطلاع دیتا اور اس کے معارف پر مطلع فرماتا۔ایسے بدنصیب شخص پر دوسری مہربانی اور کیا ہو گی حالانکہ وہ آپ فرماتا ہے کہ میں جس کو حقیقی پاکیزگی بخشتا ہوں اس پر قرآنی علوم کے چشم کھولتا ہوں۔اور نیز فرماتا ہے کہ جس کو چاہتا ہوں علم قرآن دیتا ہوں اور جس کو علم قرآن دیا گیا اس کو وہ چیز دی گئی جس کے ساتھ کوئی چیز برابر نہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے اس بیان سے ہر یک سچا مسلمان اتفاق کرے گا بجز ایسے شخص کے کہ کوئی پوشیدہ بہت آستین میں رکھتا ہے اور قرآن کریم کی سچی محبت اور سچی دلدادگی سے بے نصیب اور محروم ہے۔آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 363)