حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 695 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 695

695 تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ تُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔(ال عمران : 28) جانا چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ نے اس بات کو بڑے پر زور الفاظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے کہ دنیا کی حالت میں قدیم سے ایک مدوجزر واقعہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ تُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّیلِ یعنی اے خدا کبھی تو رات کو دن میں اور کبھی دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی ضلالت کے غلبہ پر ہدائت اور ہدائت کے غلبہ پر ضلالت کو پیدا کرتا ہے اور حقیقت اس مدوجزر کی یہ ہے کہ کبھی بامر اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں میں ایک صورت انقباض اور مجو بیت کی پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی آرائشیں ان کو عزیز معلوم ہونے لگتی ہیں اور تمام ہمتیں ان کی اپنی دنیا کے درست کرنے میں اور اس کے عیش حاصل کرنے کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں یہ ظلمت کا زمانہ ہے جس کے انتہائی نقطہ کی رات لیلتہ القدر کہلاتی ہے اور وہ لیلۃ القدر ہمیشہ آتی ہے مگر کامل طور پر اس وقت آئی تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا دن آ پہنچا تھا۔( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 1 صفحہ 645-646) قرآن کریم میں رسول کا لفظ عام ہے۔علِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا۔(الجن: 27-28) رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔آئینہ کمالات اسلام۔۔۔خ۔جلد 5 صفحہ 322) کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے دوسرے کو یہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا۔رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور محمد دہوں۔ایام اصلح - ر-خ- جلد 14 صفحہ 419 حاشیہ ) انسان کی زمین سے تشبیہہ انسان کو زمین سے بھی تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر ہے کہ اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔(الحديد : 18) ارض کے زندہ کرنے سے مراد اہل زمین ہیں۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 462) یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کی باطنی قومی مراد ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے اَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 168)