حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 686 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 686

686 خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے پانی اتارا پس اپنے اپنے قدر پر ہر یک وادی بہ نکلی یعنی جس قدر دنیا میں طبائع انسانی ہیں قرآن کریم ان کے ہر یک مرتبہ فہم اور عقل اور ادراک کی تربیت کرنے والا ہے اور یہ امر ستلزم کمال تام ہے کیونکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم اس قدر وسیع دریائے معارف ہے کہ محبت الہی کے تمام پیاسے اور معارف حقہ کے تمام تشنہ لب اسی سے پیتے ہیں۔(کرامات الصادقین۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 59) میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار ( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 21 صفحہ 145) انبیاء کی آمد کو قرناء ( صور ) سے مشابہت وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمُ جَمْعًا۔(الكهف : 100) ترجمہ :۔اور چھوڑ دیں گے ہم بعض کو ان کے اس دن کہ موجیں ماریں گے بعض میں اور پھونکا جاویگا بگل پس جمع کر دیں گے ہم انکو اچھی طرح جمع کرنا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔صور پھونکنے سے اس جگہ یہ اشارہ ہے کہ اس وقت عادت اللہ کے موافق خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمانی تائیدوں کے ساتھ کوئی مصلح پیدا ہو گا اور اسکے دل میں زندگی کی روح پھونکی جائے گی اور وہ زندگی دوسروں میں سرایت کرے گی۔یادر ہے کہ صور کا لفظ ہمیشہ عظیم الشان تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔گویا جب خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات کو ایک صورت سے منتقل کر کے دوسری صورت میں لاتا ہے تو اس تغیر صور کے وقت کو نفخ صور سے تعبیر کرتے ہیں اور اہل کشف پر مکاشفات کی رو سے اس صور کا ایک وجود جسمانی بھی محسوس ہوتا ہے اور یہ عجائبات اس عالم میں سے ہیں جن کے سر اس دنیا میں بجر منقطعین کے اور کسی پرکھل نہیں سکتے۔بہر حال آیات موصوفہ بالا سے ثابت ہے کہ آخری زمانہ میں عیسائی مذہب اور حکومت کا زمین پر غلبہ ہوگا اور مختلف قوموں میں بہت سے تنازعات مذہبی پیدا ہوں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو دبانا چاہے گی اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جاوے گا یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی نظام قائم ہو گا اور ایک آسمانی مصلح آئے گا در حقیقت اسی مصلح کا نام شہادت القرآن -ر خ- جلد 6 صفحہ 311-312) مسیح موعود ہے۔۔