حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 685
685 الہام اور وحی اور قرآن کریم کو پانی سے مشابہت وَ اللَّهُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَحْيَابِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ۔(النحل: 66) اور حقیقت حال یہ ہے کہ زمین ساری کی ساری مرگئی تھی۔خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور نئے سرے اس مردہ زمین کو زندہ کیا۔یہ ایک نشان صداقت اس کتاب کا ہے پر ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں یعنی طالب حق ہیں۔اب غور سے دیکھنا چاہیئے کہ وہ تینوں مقدمات متذکرہ بالا کہ جن سے ابھی ہم نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بچے ہادی ہونے کا نتیجہ نکالا تھا کس خوبی اور لطافت سے آیات محدوحہ (64 تا 66 ) میں درج ہیں۔اول گمراہوں کے دلوں کو جو صد ہا سال کی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے زمین خشک اور مردہ سے تشبیہ دے کر اور کلام الہی کو مینہ کا پانی جو آسمان کی طرف سے آتا ہے ٹھہرا کر اس قانون قدیم کی طرف اشارہ فرمایا جو امساک باراں کی شدت کے وقت میں ہمیشہ رحمت الہی بنی آدم کو برباد ہونے سے بچالیتی ہے اور یہ بات جتلا دی کہ یہ قانون قدرت صرف جسمانی پانی میں محدود نہیں بلکہ روحانی پانی بھی شدت اور صعوبت کے وقت میں جو پھیل جانا عام گمراہی کا ہے ضرور نازل ہوتا ہے اور اس جگہ بھی رحمت الہی آفت قلوب کا غلبہ توڑنے کے لئے ضرور ظہور کرتی ہے اور پھر انہیں آیات میں یہ دوسری بات بھی بتلادی کہ آنحضرت کے ظہور سے پہلے تمام زمین گمراہ ہو چکی تھی اور اسی طرح اخیر پر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ان روحانی مردوں کو اس کلام پاک نے زندہ کیا اور آخر یہ بات کہہ کر کہ اس میں اس کتاب کی صداقت کا نشان ہے۔طالبین حق کو اس نتیجہ نکالنے کی طرف توجہ دلائی کہ فرقان مجید خدا کی کتاب ہے۔( براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 115-116 حاشیہ 10) أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدَارَّابِيَاء وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِى النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْمَتَاعِ زَبَدٌ مِثْلُهُ طَ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ، فَاَمَّا الذَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُتُ فِي الْأَرْضِ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ۔(الرعد: 18) خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام) اتارا سو اس پانی سے ہر یک وادی اپنی قدر کے موافق یہ نکلی۔یعنی ہر ایک کو اس میں سے اپنی طبیعت اور خیال اور لیاقت کے موافق حصہ ملا۔طبایع عالیہ اسرار حکمیہ سے متمتع ہوئیں اور جو ان سے بھی اعلیٰ تھے انہوں نے ایک عجیب روشنی پائی کہ جو حد تحریر و تقریر سے خارج ہے اور جو کم درجہ پر تھے انہوں نے مخبر صادق کی عظمت اور کمالیت ذاتی کو دیکھ کر دلی اعتقاد سے اس کی خبروں پر یقین کر لیا اور اس طرح پر وہ بھی یقین کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک جا پہنچے اور صرف وہی لوگ باہر رہ گئے جن کو خدا سے کچھ غرض نہ تھی اور فقط دنیا کے ہی کیڑے تھے۔(براہین احمد یہ ر - خ - جلد 1 صفحہ 212 حاشیہ نمبر (11)