حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 676 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 676

676 بیان کی وضاحت کی غرض سے حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا قُلْنَائِذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِم حُسُنًا۔حُسُنَا۔(الكهف: 87) ان آیات کا سیاق سباق دیکھو کہ اس جگہ حکیمانہ تحقیق کا کچھ ذکر بھی ہے فقط ایک شخص کی دور دراز سیاحت کا ذکر ہے اور ان باتوں کے بیان کرنے سے اسی مطلب کا اثبات منظور ہے کہ وہ ایسے غیر آباد مقام پر پہنچا۔سواس جگہ ہیئت کے مسائل لے بیٹھنا بالکل بے محل نہیں تو اور کیا ہے۔مثلاً اگر کوئی کہے کہ آج رات بادل وغیرہ سے آسمان خوب صاف ہو گیا تھا اور ستارے آسمان کے نقطوں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے تھے اور اس سے یہ جھگڑالے بیٹھیں کہ کیا ستارے نقطوں کی مقدار پر ہیں اور ہیئت کی کتابیں کھول کھول کر پیش کریں تو بلاشبہ یہ حرکت بے خبروں کی سی حرکت ہوگی کیونکہ اس وقت متکلم کی نیت میں واقعی امر کا بیان کرنا مقصود نہیں وہ تو صرف مجازی طور پر جس طرح ساری دنیا جہاں بولتا ہے بات کر رہا ہے۔اے وہ لو گو جو عشائے ربانی میں مسیح کا لہو پیتے اور گوشت کھاتے ہو کیا ابھی تک تمہیں مجازات اور استعارات کی خبر نہیں۔سب جانتے ہیں کہ ہر ایک ملک کی عام بول چال میں مجازات اور استعارات کے استعمال کا نہایت وسیع دروازہ کھلا ہے اور وحی الہی انہیں محاورات واستعارات کو اختیار کرتی ہے جو سادگی سے عوام الناس نے اپنی روزمرہ کی بات چیت اور بول چال میں اختیار کر رکھی ہیں۔فلسفہ کی دقیق اصطلاحات کی ہر جگہ اور ہر حل میں پیروی کرنا وحی کی طرز نہیں کیونکہ روئے سخن عوام الناس کی طرف ہے۔پس ضرور ہے کہ ان کی سمجھ کے موافق اور ان کے محاورات کے لحاظ سے بات کی جائے۔حقائق ودقائق کا بیان کرنا بجائے خود ہے مگر محاورات کا چھوڑنا اور مجازات و استعارات عادیہ سے یک لخت کنارہ کش ہوتا ایسے شخص کے لئے ہر گز روا نہیں جو عوام الناس کے مذاق پر بات کرنا اس کا فرض منصب ہے تا وہ اس کی بات کو سمجھیں اور ان کے دلوں پر اس کا اثر ہو۔لہذا یہ مسلم ہے کہ کوئی ایسی الہامی کتاب نہیں جس میں مجازات اور استعارات سے کنارہ کیا گیا ہو یا کنارہ کرنا جایز ہو۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ 30-32) مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ۔(النور: 36) یہ تو عام فیضان ہے جس کا بیان آیت اللَّهُ نُورُ السَّمواتِ وَ الْاَرْضِ میں ظاہر فرمایا گیا۔یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر ایک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے جس کے فائز ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرط نہیں لیکن بمقابلہ اس کے ایک خاص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے اور انہیں افراد خاصہ پر فائز ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت و استعداد موجود ہے یعنی نفوس کا ملہ انبیاء علیہم السلام پر جن میں سے افضل و اعلیٰ ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسروں پر ہرگز نہیں ہوتا۔اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت بار یک صداقت ہے اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے اس لئے خداوند تعالیٰ نے اول فیضان عام کو ( جو بدیہی الظہور ہے ) بیان کر کے پھر اس فیضان خاص کو بغرض اظہار کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثال میں بیان فرمایا ہے کہ جو اس آیت سے شروع ہوتی ہے مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الخ اور بطور مثال اس لئے بیان کیا کہ تا اس دقیقہ ء نازک کے سمجھنے میں ابہام اور وقت باقی نہ رہے کیونکہ معانی معقولہ کو مصور محسوسہ میں بیان کرنے سے ہر ایک نجی و بلید بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 192 حاشیہ نمبر 1)