حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 668
668 قرآن کریم میں مجاز اور استعارات وجی حق پر از اشارات خداست گر نہ فہد جاہلے سج دل رواست خدا کی وحی اشاروں سے بھری ہوئی ہوتی ہے اگر کوئی جاہل اور کم فہم نہ سمجھے تو یہ عین ممکن ہے چشمه فیض است وحی ءِ ایزدی لیکن آں فهمد که باشد مهتدی خدا کی وحی فیضان کا ایک چشمہ ہے لیکن اسے وہی سمجھ سکتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔وحی قرآن راز ها دارد بسے نسبتی باید که تا فهمد کسے قرآنی وحی میں بکثرت اسرار ہیں مناسبت ہونی چاہیئے تا کہ کوئی اسے سمجھ سکے۔واجب آمد نسبت اندر دیں نخست کارِ بے نسبت نمے آید درست دین کے لیے پہلے مناسبت ہونی ضروری ہے بغیر مناسبت کے کام ٹھیک نہیں بیٹھتا۔(ضیاء الحق -ر خ- جلد 9 صفحہ 308) ( درشین فارسی صفحه 213) ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ کیوں ناحق ایک ایسی بات پر زور دیتے ہیں جس کے لئے ان کے پاس کوئی یقینی ثبوت نہیں۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کی کتابوں کی زبان سے محض ناواقف ہیں اگر واقف ہوتے تو سمجھتے کہ پیشگوئیوں میں کس قدر استعارات سے کام لیا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ سونے کے کڑے پہنے ہوئے ہیں تو اس سے مراد جھوٹے نبی تھے اور جب آپ کو گائیوں کا ذبح ہونا دکھایا گیا تو اس سے مراد صحابہ کی شہادت تھی۔اور یہ کوئی خاص بات نہیں عام طور پر قانون الہی رؤیا اور پیشگوئیوں کے متعلق اس قسم کا ہے۔دیکھو حضرت یوسف کی رؤیا جو قرآن شریف میں ہے کیا اس سے سورج اور چاند اور ستارے مراد تھے؟ یا عزیز مصر کی رویا جس میں گائیں دکھائی گئی تھیں اس سے فی الواقعہ کا ئیں مراد تھیں یا کچھ اور ؟ اس قسم کی ایک دو نہیں ہزاروں ہزار شہادتیں ملتی ہیں۔مگر تعجب کی بات ہے کہ نزول مسیح کے معاملہ میں یہ لوگ ان کو بھول جاتے ہیں اور ظاہر الفاظ پر زور دینے لگتے ہیں ان معاملات میں اختلاف کی جڑ دوہی باتیں ہوا کرتی ہیں کہ مجاز اور استعارہ کو چھوڑ کر اس کو ظاہر پر حمل کر لیا جائے اور جہاں ظاہر مراد ہے وہاں استعارہ قرار دیا جائے اگر پیشگوئیوں میں مجاز اور استعارہ نہیں ہے تو پھر کسی نبی کی نبوت کا ثبوت بہت مشکل ہو جاوے گا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 372) عہد نامہ قدیم وجدید میں استعارات کا استعمال اور یہود کا ابتلاء یہودیوں کو یہی مشکل اور آفت تو پیش آئی کیونکہ حضرت مسیح کے لئے لکھا تھا کہ اس کے آنے سے پہلے ایلیا آئے گا۔چنانچہ ملا کی نبی کی کتاب میں یہ پیشگوئی بڑی صراحت سے درج ہے۔یہودی اس پیشگوئی کے موافق منتظر تھے۔کہ ایلیا آسمان سے آوے لیکن جب مسیح آگیا اور ایلیا آسمان سے نہ اتر اتو وہ گھبرائے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 372)