حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 664 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 664

664 ایک نکتۂ معرفت قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کے نام کے ساتھ کوئی صفت مفعول کے صیغہ میں نہیں ہے۔قدوس تو ہے مگر معصوم نہیں ہے کیونکہ معصوم کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بچانے والا کوئی اور ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ تو اپنی ذات ہی میں بے عیب پاک خدا ہے اور وحدہ لاشریک اکیلا خدا ہے اس کو بچانے والا کون ہو سکتا ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 466) وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَ إِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنكبوت: 70) جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور کریں گے ہم ان کو اپنی راہیں دکھلا رہے ہیں اور دکھلائیں گے۔صاف ظاہر ہے کہ اگر اس جگہ مجزر داستقبال مراد لیا جائے تو اس سے معنے فاسد ہو جائیں گے اور یہ کہنا پڑے گا کہ یہ وعدہ صرف آئندہ کے لئے ہے اور حال میں جو لوگ مجاہدہ میں مشغول ہیں یا پہلے مجاہدات بجالا چکے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی راہوں سے بے نصیب ہیں بلکہ اس آیت میں عادت مستمرہ جار یہ دائرہ میں الا زمنہ الثلثہ کا بیان ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہماری یہی عادت ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں دکھلایا کرتے ہیں۔کسی زمانہ کی خصوصیت نہیں بلکہ سنت مستمرہ دائرہ سائرہ کا بیان ہے جس کے اثر سے کوئی زمانہ باہر نہیں۔الحق مباحثہ دہلی۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 163)