حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 655 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 655

655 توفی وَإِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلِّغُ وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ۔(الرعد: 41) اگر ہمارے علماء اس جگہ بھی توفی کے معنے یہی لیتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں تو ہمیں ان پر کچھ بھی افسوس نہ ہوتا مگر ان کی بیبا کی اور گستاخی تو دیکھو کہ توفی کا لفظ جہاں کہیں قرآن کریم میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے تو اس کے معنے وفات کے لیتے ہیں اور پھر جب وہی لفظ حضرت مسیح کے حق میں آتا ہے تو اس کے معنی زندہ اٹھائے جانے کے بیان کرتے ہیں اور کوئی ان میں سے نہیں دیکھتا کہ لفظ تو ایک ہی ہے۔اندھے کی طرح ایک دوسرے کی بات کو مانتے جاتے ہیں۔جس لفظ کو خدا تعالیٰ نے چھپیس مرتبہ اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کر کے صاف طور پر کھول دیا کہ اس کے معنے روح کا قبض کرنا ہے نہ اور کچھ۔اب تک یہ لوگ اس لفظ کے معنی مسیح کے حق میں کچھ اور کے اور کر جاتے ہیں۔گویا تمام جہان کے لئے توفی کے معنے تو قبض روح ہی ہیں مگر حضرت ابن مریم کے لئے زندہ اٹھا لینا اس کے معنی ہیں۔اطراف ( آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 43) أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا وَ اللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَ هُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔(الرعد: 42) سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے کچھ تعلق نہیں۔پھر رفتہ رفتہ ائمتہ الکفر پکڑے جاتے ہیں اور سب سے آخر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے اَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد: 42) یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔(حقیقتہ الوحی۔۔۔خ۔جلد 22 صفحہ 166)