حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 654
654 (1) استقامت (2) یقینی طور پر مقصود تک پہنچانا (3) اس کا نز دیک ترین ( راہ ) ہونا۔(4) گزرنے والوں کے لیے اس کا وسیع ہونا۔اور (5) سالکوں کی نگاہ میں مقصود تک پہنچنے کے لیے اس راستہ کا متعین کیا جاتا۔اور صراط کا لفظ بھی تو خدا تعالیٰ کی طرف مضاف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کی شریعت ہے اور وہ چلنے والوں کے لیے ہموار راستہ ہے اور کبھی اسے بندوں کی طرف مضاف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس پر چلنے والے اور گزرنے والے اور اسے عبور کرنے والے ہیں۔کرامات الصادقین۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 137 ) عاشق مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ غَاسِقٍ عربی میں تاریکی کو کہتے ہیں جو کہ بعد زوال شفق اول چاند کو ہوتی ہے اور اسی لئے لفظ قمر پر بھی اس کی آخری راتوں میں بولا جاتا ہے جبکہ اس کا نور جاتا رہتا ہے اور خسوف کی حالت میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔قرآن شریف میں مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (الفلق : 4) کے یہ معنے ہیں مِنْ شَرِّ ظُلْمَةٍ إِذَا دَخَلَ یعنی ظلمت کی برائی سے جب وہ داخل ہو۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 55) كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمُ مَّشَوْا فِيْهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا (البقرة: 21) منافقوں کا کام ہے مگر یہ لوگ قَامُوا میں داخل ہیں احتیاط سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے تاریکی جب خدا کی طرف منسوب ہو تو دشمن کی آنکھ میں ابتلا کا موقع اس سے مراد ہوتا ہے اور اس لیے اس کو غاسق اللہ کہتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 56) تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُم مَّنْ كَلَّمَ اللَّهُ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتٍ۔(البقرة: 254) جاننا چاہئے کہ رفع کا لفظ قرآن شریف میں جہاں کہیں انبیا اور اخیار ابرار کی نسبت استعمال کیا گیا ہے عام طور پر اس سے یہی مطلب ہے کہ جوان برگزیدہ لوگوں کو خدائے تعالیٰ کی جناب میں باعتبار اپنے روحانی مقام اور نفسی نقطہ کے آسمانوں میں کوئی بلند مرتبہ حاصل ہے اس کو ظاہر کر دیا جائے اور ان کو بشارت دی جائے کہ بعد موت و مفارقت بدن ان کی روح اس مقام تک جو ان کے لیے قرب کا مقام ہے اٹھائی جائے گی جیسا کہ اللہ جلشانہ ہمارے سید و مولیٰ کا اعلیٰ مقام ظاہر کرنے کی غرض سے قرآن شریف میں فرماتا ہے تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُم مَّنْ كَلَّمَ اللهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمُ دَرَجت۔یعنی یہ تمام رسول اپنے مرتبہ میں یکساں نہیں بعض ان میں سے وہ ہیں جن کو رو بر و کلام کرنے کا شرف بخشا گیا اور بعض وہ ہیں جن کا رفع درجات سب سے (ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 275 ) بڑھ کر ہے۔