حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 653
653 اگر اردو میں بھی مثلاً ایک فصیح شخص تقریر کرتا ہے اور اس میں کہیں مثالیں لاتا ہے کہیں دلچسپ فقرے بیان کرتا ہے تو دوسرا فصیح بھی اسی رنگ میں کہدیتا ہے اور بجز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔اگر بعض پر فصاحت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں شعرائے جاہلیت کے قصائد میں دیکھی جائیں تو ایک لمبی فہرست طیار ہوگی اور ان امور کو متقین نے جائے اعتراض نہیں سمجھا بلکہ اسی غرض سے ائمہ راشدین نے جاہلیت کے ہزار ہا اشعار کو حفظ کر رکھا تھا اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کے لئے انکو بطور سند لاتے تھے۔( نزول مسیح - ر- خ - جلد 18 صفحہ 434) رباط لغات قرآن، چند مثالیں لغت عرب بھی عجیب چیز ہے۔رباط کا لفظ جو آیہ مذکورہ میں آیا ہے۔جہاں دنیا وی جنگ و جدل اور فنون جنگ کی فلاسفی پر مشتمل ہے وہاں روحانی طور پر اندرونی جنگ اور مجاہدہ نفس کی حقیقت اور خوبی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک عجیب سلسلہ ہے اب دیکھو یہی رباط کا لفظ جو ان گھوڑوں پر بولا جاتا ہے جو سرحد پر دشمنوں سے حفاظت کے لیے باندھے جاتے ہیں۔ایسا ہی یہ لفظ ان نفسوں پر بھی بولا جاتا ہے جو اس جنگ کی تیاری کے لیے تعلیم یافتہ ہوں جو انسان کے اندر ہی اندر شیطان سے ہر وقت جاری ہے۔صراط 1۔۔۔۔۔۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 36-37) صراط لغت عرب میں ایسی راہ کو کہتے ہیں۔جو سیدھی ہو یعنی تمام اجزاء اس کے وضع استقامت پر واقع ہوں اور ایک دوسرے کی نسبت عین محاذات پر ہوں۔(احکام 10 فروری 1905 صفحہ 4) ( تفسیر حضرت اقدس جلداول صفحہ 217) طریق وقيل ان الطريق لا يسمى صراطا عند قوم ذوی قلب و نور حتے يتضمن خمسة امور من امور الدين۔و هي الاستقامة و الايصال الى المقصود باليقين و قرب الطريق وسعته للمارين وتعيينه طريقا للمقصود في اعين السالكين۔و هو تارة يضاف الى الله اذ هو شرعه و هو سوى سبله للماشين۔وتارة يضاف الى العباد لكونهم اهل السلوك والمارين عليها والعابرين ترجمہ :۔اور کہتے ہیں کہ صاحب دل اور روشن ضمیر لوگوں کے نزدیک طریق (راستہ) کو اس وقت تک صراط کا نام نہیں دیا جاسکتا جب تک کہ وہ امور دین میں سے پانچ امور پر مشتمل نہ ہو اور وہ یہ ہیں:۔