حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 649
649 قرآن اپنی لغت خود متعین کرتا ہے اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اپنی کمال تعلیم کا آپ دعوئی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اليوم اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمُ نِعْمَتِى (المانده:4) کہ آج میں نے تمہارے لیے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت یعنی تعلیم قرآنی کو تم پر پورا کیا۔اور ایک دوسرے محل میں اس اکمال کی تشریح کے لیے کہ اکمال کس کو کہتے ہیں فرماتا ہے۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ۔تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ الجُتَتَّتُ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَالَهَا مِنْ قَرَارٍ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ۔(ابراهیم 25 تا 28 ) کیا تو نے نہیں دیکھا کیونکر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑ ثابت ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہو اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تا لوگ ان کو یاد کر لیں اور نصیحت پکڑ لیں اور ناپاک کلمہ کی مثال اس ناپاک درخت کی ہے جو زمین پر سے اکھڑا ہوا ہے اور اس کو قرار وثبات نہیں سو اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت کے ساتھ یعنی جو قول ثابت شدہ اور مدلل ہے اس دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم کرتا ہے اور جو لوگ ظلم اختیار کرتے ہیں ان کو گمراہ کرتا ہے یعنی ظالم خدا تعالیٰ سے ہدایت کی مد نہیں پاتا جب تک ہدایت کا طالب نہ ہو کسی آیتہ کے وہ معنے کرنے چاہیئے کہ الہامی کتاب آپ کرے اور الہامی کتاب کی شرح دوسری شرحوں پر مقدم ہے۔اب اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلام پاک اور مقدس کا کمال تین باتوں پر موقوف قرار دیتا ہے۔( جنگ مقدس۔رخ- جلد 6 صفحہ 123-124 ) بعض نادان یہ خیال کرتے کہ وہ آیات ذو معنین ہیں یہ خیال سراسر فاسد ہے مومن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالراے کرے بلکہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض دوسرے مقامات کے لیے خود مفسر اور شارح ہیں اگر یہ بات سچ نہیں کہ مسیح کے حق میں جو یہ آیتیں ہیں کہ اِنِّی مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائده: 118) یہ در حقیقت مسیح کی موت پر ہی دلالت کرتی ہیں بلکہ ان کے کوئی اور معنے ہیں تو اس نزاع کا فیصلہ قرآن شریف سے ہی کرانا چاہیئے۔اور اگر قرآن شریف مساوی طور پر بھی اس لفظ کو موت کے لیے استعمال کرتا ہے اور کبھی ان معنوں کے لیے جو موت سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے تو محل متنازعہ فیہ میں مساوی طور پر احتمال رہے گا اور اگر ایک خاص معنے اغلب اور اکثر طور پر مستعملات قرآنی میں سے ہیں تو انہی معنوں کو اس مقام بحث میں ترجیح ہوگی اور اگر قرآن شریف اول سے آخر تک اپنے کل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا ہے تو محل محوث فیہ میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہو گا کہ جو معنے توفی کے سارے قرآن شریف میں لیے گئے ہیں وہی معنے اس جگہ بھی مراد ہیں کیونکہ یہ بالکل غیر ممکن اور بعید از قیاس ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے بلیغ اور صحیح کلام میں ایسے تنازع کی جگہ میں جو اس کے علم میں ایک معرکہ کی جگہ ہے ایسے شاذ اور مجہول الفاظ استعمال کرے جو اس کے تمام کلام میں ہرگز استعمال نہیں ہوئے اگر وہ ایسا کرے تو گویا وہ خلق اللہ کو آپ ورطہ شبہات میں ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس نے ہرگز ایسا نہیں کیا ہوگا یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے قرآن کریم کے تنیس مقام میں تو ایک لفظ کے ایک ہی معنے مراد لیتا جاوے اور پھر دو مقام میں جو زیادہ تر محتاج صفائی بیان کے تھے کچھ اور کا اور مراد لیکر آپ ہی خلق اللہ کو گمراہی میں ڈال دے۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 266-267)