حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 646 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 646

646 الا ان الا قلام كلها لله وهى معجزة من معجزات كتاب مبين۔ثم يتلقاها المقربون على قدر اتباع خير المرسلين فان المعجزات تقتضى الكرامات ليبقى اثرها الى يوم الدين۔و ان الذين ورثوا نبيهم يعطون من نعمه على الطريقة الظلية۔ولولا ذالك لبطلت فيوض النبوة فانهم كاثر لعين انقضى وكعكس لصورة في المراة يرى۔سنوساری علی کی قلمیں خدا کے قبضے میں اور وہ کتاب مبین کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں۔پھر وہی قلمیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کی قدر پر مقربوں کو عطا ہوتی ہیں اسلئے کہ معجزات چاہتے ہیں کرامات کو تا کہ ان کا نشان قیامت تک باقی رہے اور اپنے بنی علیہ السلام کے وارثوں کو بطور ظلیت کے آپ کی نعمتیں مرحمت ہوتی ہیں۔اور اگر یہ قاعدہ جاری نہ رہتا تو نبوت کے فیض بالکل باطل ہو جاتے۔اس لئے کہ یہ وارث نقش ہوتے ہیں اصل کے جو گزرچکی ہوتی ہے اور گویا عکس ہوتے ہیں ایک صورت کے جو شیشہ میں نظر آتا ہے۔الهدای-رخ- جلد 18 صفحہ 275-274) لغت کا احاطہ کرنا معجزات انبیاء میں سے ہے اور لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا نا پیدا کنار دریا ہے جو اسکی نسبت امام شافعی رحمتہ اللہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے لا یعلمہ الا نبی یعنی اس زبان کو اور اس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا۔اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہر ایک پہلو سے قدرت حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پورا احاطہ کرنا منجزات انبیاء علیہم السلام سے ہے۔( نزول مسیح۔۔۔خ۔جلد 18 صفحہ 437) میرے پاس آؤ اور میری سنو ! میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں بلکہ میری حیثیت سفن انبیاء کی سی حیثیت ہے۔مجھے ایک سماوی آدمی مانو۔پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزا ئیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں، ایک دم میں طے ہو سکتی ہیں جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے۔جو معنے قرآن شریف کے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صیح قرار دے گا وہی حدیث صحیح ہوگی۔" نور فرقاں نہ تافت است چناں ( ملفوظات جلد اول صفحه 399) کو بماند نہاں زدیدہ قرآن کا نور ایسا نہیں چمکتا ہے کہ دیکھنے والوں کی نظر سے مخفی رہ سکے وراں آں چراغ ہدی سرت دنیا را رہنما رہبرو ست دنیا را رحمتی از خدا ست دنیا را نعمتی از سما ست دنیا را وہ تو تمام دنیا کے لیے ہدایت کا چراغ ہے اور جہان بھر کے لیے رہبر اور رہنما وہ خدا کی طرف سے دنیا کے لیے ایک رحمت ہے اور آسمان سے اہل جہان کے لیے ایک نعمت مخزن راز ہائے ربانی از خدا آله خدا دانی وہ خداوند کے اسرار کا خزانہ ہے اور خدا کی طرف سے خداشناسی کا آلہ ( در مشین فارسی متر جم صفحه 77) (براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 359)