حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 631
631 جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیئے۔کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا۔کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو۔بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے۔تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 321) فدیہ کے احکام وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ کی نسبت فرمایا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جو طاقت نہیں رکھتے ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 297) اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بنا آسانی پر رکھی ہے جو مسافر اور مریض صاحب مقدرت ہوں ان کو چاہیئے۔کہ روزہ کی بجائے فدیہ دیدیں۔فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 321) صرف فدیہ تو شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے۔جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ورنہ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔صرف فدیہ کا خیال کرتا اباحت کا دروازہ کھول دنیا ہے۔جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں۔اس طرح سے خدا تعالیٰ کے بوجھوں کو سر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میرے راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ان کو ہی ہدایت دی جاوے گی۔فرمایا۔خدا تعالیٰ نے دین اسلام میں پانچ مجاہدات مقرر فرمائے ہیں۔نماز روزہ۔زکوۃ صدقات۔حج۔اسلامی دشمن کا ذب اور دفع خواہ سیفی ہو۔خواہ قلمی۔یہ پانچ مجاہدے قرآن شریف سے ثابت ہیں مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان میں کوشش کریں اور ان کی پابندی کریں۔یہ روزے تو سال میں ایک ماہ کے ہیں۔بعض اہل اللہ تو نوافل کے طور پر اکثر روزے رکھتے رہتے ہیں اور ان میں مجاہدہ کرتے۔ہاں دائگی روزے رکھنا منع ہیں یعنی ایسا نہیں چاہیئے کہ آدمی ہمیشہ روزے ہی رکھتا ہے بلکہ ایسا کرنا چاہئے کہ نفلی روزہ کبھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 322) وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنَ) ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس لیے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ تو فیق کے واسطے ہے تاکہ روزہ کی تو فیق اس سے حاصل ہو خدا ہی کی ذات ہے جو تو فیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا ہی سے طلب کرنی چاہیئے خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جاوے اور یہ خدا کے فضل سے ہوتا ہے پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان) دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کرسکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا طاقت بخش دے گا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 563)