حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 613 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 613

613 قیامت کب آئے گی وَتَبْرَكَ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔(الزخرف:86) اصل قیامت کا علم تو سوائے خدا کے کسی کو بھی نہیں حتی کہ فرشتوں کو بھی نہیں اور وہاں ساعۃ کا لفظ ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ عورتوں کے حمل کی میعاد نو ماہ دس دن ہوتی ہے جب نو ماہ پورے ہو جائیں تو اب باقی دس دنوں میں کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کونسے دن وضع حمل ہوگا۔گھر کا ہر ایک آدمی بچہ جننے کی گھڑی کا منتظر رہتا ہے۔اسی لئے قیامت کا نام ساعۃ رکھا ہے کہ اس ساعۃ کی خبر نہیں۔خدا کی کتابوں میں جو اس کی علامات ہیں ممکن ہے کہ ان سے کوئی آدمی قریب قریب اس زمانہ کا پتہ بھی دے دے مگر اس ساعة کی کسی کو خبر نہیں ہے جیسے وضع حمل کی ساعت کی کسی کو خبر نہیں۔ایک ڈاکٹر سے بھی پوچھو تو وہ بھی کہے گا نو ماہ اور دس دن۔مگر جونہی 9 ماہ گذریں پھر فکر رہتی ہے کہ دیکھیں کو نسے دن ہو اور کون سی گھڑی۔کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ ہزار سال کے بعد قیامت قریب ہے اب چھ ہزار سال تو گذر گئے ہیں قیامت تو قریب ہوگی مگر اس گھڑی کی خبر نہیں۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 504-503) یہ بات واقعی ہے اور قرآن پاک سے بھی ثابت ہے کہ ساعۃ سے اس جگہ مراد یہودیوں کی تباہی کا زمانہ ہے یہ وہی زمانہ تھا اور جس ساعت کے یہ لوگ منتظر ہیں اس کا تو ابھی تک کہیں پتہ بھی نہیں ہے۔ایک پہلو سے اول مسیح کے وقت یہودیوں نے بدبختی لے لی اور دوسرے وقت میں نصاری نے بدبختی کا حصہ لے لیا۔مسلمانوں نے بھی پوری مشابہت یہود سے کر لی۔اگر ان کی سلطنت یا اختیار ہوتا تو ہمارے ساتھ بھی مسیح والا معاملہ کرتے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 428-427) ظہور قیامت اور حضرت اقدس کا عقیدہ وَ الْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔(العصر : 3-2) ہمارا عقیدہ جو قرآن شریف نے ہمیں سکھلایا ہے کہ خدا ہمیشہ سے خالق ہے اگر چاہے تو کروڑوں مرتبہ زمین و آسمان کوفتنا کر کے پھر ایسے ہی بنا دے اور اس نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ آدم جو پہلی امتوں کے بعد آیا جو ہم سب کا باپ تھا اس کے دنیا میں آنے کے وقت سے یہ سلسلہ انسانی شروع ہوا ہے اور اس سلسلہ کی عمر کا پورا دور سات ہزار برس تک ہے۔یہ سات ہزار خدا کے نزدیک ایسے ہیں جیسے انسانوں کے سات دن۔یادر ہے کہ قانون الہی نے مقرر کیا ہے کہ ہر ایک امت کے لئے سات ہزار برس کا دور ہوتا ہے اسی دور کی طرف اشارہ کرنے کے لئے انسانوں میں سات دن مقرر کئے گئے ہیں۔غرض بنی آدم کی عمر کا دور سات ہزار برس مقرر ہے اور اس میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پانچ ہزار برس کے قریب گزر چکا تھا یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ خدا کے دنوں میں سے پانچ دن کے قریب