حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 612 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 612

612 کامل جزاء بجز تجلی مالکیت تامہ کے کہ جو ہم بنیان اسباب کوستلزم ہے ظہور میں نہیں آ سکتی چنانچہ اسی کی طرف دوسری جگہ بھی اشارہ فرما کر کہا ہے۔لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المؤمن: 17) یعنی اس دن ربوبیت الہیہ بغیر توسط اسباب عادیہ کے اپنی تجلی آپ دکھائے گی اور یہی مشہود اور محسوس ہوگا کہ بجز قوت عظمی اور قدرت کاملہ حضرت باری تعالیٰ کے اور سب بیچ ہیں تب سا را آرام و سرور اور سب جزاء اور پاداش بنظر صاف وصریح خدا ہی کی طرف سے دکھلائی دے گا اور کوئی پردہ اور حجاب درمیان میں نہیں رہے گا اور کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہے گی تب جنہوں نے اس کے لئے اپنے تئیں منقطع کر لیا تھا وہ اپنے تئیں ایک کامل سعادت میں دیکھیں گے کہ جو ان کے جسم اور جان اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جائے گی اور کوئی حصہ وجود ان کے کا ایسا نہیں ہو گا کہ جو اس سعادت عظمی کے پانے سے بے نصیب رہا ہو۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 455-454 حاشیہ ) علامات قرب قیامت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔(القمر:2) تمام علامتیں قرب قیامت کی ظاہر ہو چکی ہیں اور دنیا پر ایک انقلاب عظیم آ گیا ہے اور جبکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے جیسا کہ آیت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ زمانہ جس پر تیرہ سو برس اور گذر گیا اس کے آخری زمانہ ہونے میں کس کو کلام ہوسکتا ہے۔تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 243) یہ جو کہا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا کسی کو علم نہیں اس سے یہ مطلب نہیں کہ کسی وجہ سے بھی علم نہیں اگر یہی بات ہے تو پھر آثار قیامت جو قرآن شریف اور احادیث صحیح میں کہے گئے ہیں وہ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے ذریعہ سے بھی قرب قیامت کا ایک علم حاصل ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھا تھا کہ آخری زمانہ میں زمین پر بکثرت نہریں جاری ہوں گی۔کتابیں بہت شائع ہوں گی جن میں اخبار بھی شامل ہیں اور اونٹ بریکار ہو جائیں گے سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہمارے زمانے میں پوری ہو گئیں اور اونٹوں کی جگہ ریل کے ذریعہ سے تجارت شروع ہو گئی سو ہم نے سمجھ لیا کہ قیامت قریب ہے اور خود مدت ہوئی کہ خدا نے آیت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ اور دوسری آیتوں میں قرب قیامت کی ہمیں خبر دے رکھی ہے۔سو شریعت کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت کا وقوع ہر ایک پہلو سے پوشیدہ ہے بلکہ تمام نبی آخری زمانہ کی علامتیں لکھتے آئے ہیں اور انجیل میں بھی لکھی ہیں۔پس مطلب یہ ہے کہ اس خاص گھڑی کی کس کو خبر نہیں۔خدا قادر ہے کہ ہزار سال گذرنے کے بعد چند صدیاں اور بھی زیادہ کر دے۔لیکچر سیالکوٹ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 210)