حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 611
611 قیامت کے مجازی معانی قیامت کی خبر سننا“ کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: - اس سے مراد ہے کہ دینداروں کی فتح ہوگی اور دشمنوں کو ذلت۔کیونکہ قیامت کو بھی یہی ہونا ہے۔قرآن شریف میں ہے کہ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيقٌ فِی السَّعِيرِ یہ اسی دن ہوگا۔دنیا کی رنگارنگ کی وبائیں بھی قیامت ہی ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 658) مامور کا زمانہ بھی ایک قیامت ہے۔جیسے لوگ یوم جزا کے دن دو فریقوں میں تقسیم ہو جائیں گے یعنی فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِی السَّعِيرِ ایسے ہی مامور کی بعثت کے وقت بھی دوفریق ہو جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 312) کیفیت ظهور قیامت يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلَّ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ تُعِيْدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ۔(الانبياء:105) ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا۔یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں۔بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں۔و تكُونُ السَّمَوتُ بِيَمِينِهِ یعنی لینے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپالے گا۔اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر یک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی اور ہر ایک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی اور عمل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔( آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 صفحہ 154-152 حاشیہ در حاشیه ) يَوْمَ هُمُ برِزُونَ لَا يَخْفَى عَلَى اللهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔(المومن: 17) جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس ( دنیا کے فنا کرنے کے۔ناقل ) وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر یک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی اور ہر یک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی اور علل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے كُلُّ مُـنْ عَلَيْهَا فَانِ۔وَيَبْقَى وَّجُهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔(الرحمن: 27-28)۔لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المومن:17) یعنی خدا تعالیٰ اپنی قہری تجلی سے ہر یک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانگت دکھلائے گا۔(آئینہ کمالات اسلام -رخ- جلد 5 صفحہ 154-153 حاشیه در حاشیه )