حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 593 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 593

593 اور ابن جریر نے بھی آیات فَالْمُدَتِرَاتِ اَمُرًا کے نیچے یہ شرح کی ہے کہ اس سے مراد ملا یک ہیں جو مد بر عالم ہیں یعنی گو بظاہر نجوم اور شمس و قمر و عناصر وغیرہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں مگر در حقیقت مد بر ملا یک ہی ہیں۔اب جبکہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے رو سے یہ بات نہایت صفائی سے ثابت ہوگئی کہ نظام روحانی کے لئے بھی نظام ظاہری کی طرح موثرات خارجیہ ہیں جن کا نام کلام الہی میں ملا یک رکھا ہے تو اس بات کا ثابت کرنا باقی رہا کہ نظام ظاہری میں بھی جو کچھ ہو رہا ہے ان تمام افعال اور تغیرات کا بھی انجام اور انصرام بغیر فرشتوں کی شمولیت کے نہیں ہوتا۔سوؤمنقولی طور پر اس کا ثبوت ظاہر ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبرات اور مقسمات امر رکھا ہے اور ہر یک عرض اور جو ہر کے حدوث اور قیام کا وہی موجب ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو بھی وہی اٹھائے ہوئے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 136-135 حاشیہ) إِنَّ عَلَيْكُمْ لَحفِظِينَ۔كِرَامًا كَاتِبِينَ۔يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ۔(الانفطار : 11 تا 13) قرآن کریم میں اور بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تربیت اور حفاظت ظاہری و باطنی کے لئے اور نیز اس کے اعمال کے لکھنے کے لئے ایسے فرشتے مقرر ہیں کہ جو دائمی طور پر انسانوں کے پاس رہتے ہیں۔وَ إِنَّ عَلَيْكُمْ لَحفِظِينَ کہ تم پر حفاظت کرنے والے مقرر ہیں۔آئینہ کمالات اسلام - ر- خ- جلد 5 صفحہ 79-78) اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ (الطارق : 5) - اگر چه ملائک جسمانی آفات سے بھی بچاتے ہیں لیکن ان کا بچانا روحانی طور پر ہی ہے۔مثلاً ایک شخص ایک گرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہے تو یہ تو نہیں کہ فرشتہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اس کو دور لے جائے گا بلکہ اگر اس شخص کا اس دیوار سے بچنا مقدر ہے تو فرشتہ اس کے دل میں الہام کر دے گا کہ یہاں سے جلد کھسکنا چاہیئے لیکن ستاروں اور عناصر وغیرہ کی حفاظت جسمانی ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 نوٹ برصفحہ 99) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلئِكَةٌ غِلاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ۔(التحريم: 7) پس یہی وجہ کہ انسان کی روحانی تربیت بلکہ جسمانی تربیت کے لئے بھی فرشتے وسائط مقرر کئے گئے مگر یہ تمام وسائط خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں مجبور اور ایک کل کی طرح ہیں جس کو اس کا پاک ہاتھ چلا رہا ہے اپنی طرف سے نہ کوئی ارادہ رکھتے ہیں نہ کوئی تصرف۔جس طرح ہوا خدا تعالیٰ کے حکم سے ہمارے اندر چلی جاتی ہے اور اسی کے حکم سے تاثیر کرتی ہے یہی صورت اور بتمامہ یہی حال فرشتوں کا ہے۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 صفحہ 87 حاشیہ )