حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 592
592 ترجمہ از مرتب:۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آسمانوں میں فرشتوں کے مقامات ثابت ہیں جیسا کہ اللہ عز وجل ان کی طرف سے حکایت بیان فرمایا ہے۔وَ مَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُوم اور ہم قرآن کریم میں ایک آیت بھی ایسی نہیں پاتے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہو کہ فرشتے اپنے مقامات کو کسی وقت چھوڑ دیتے ہیں بلکہ قرآن کریم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ ان مقامات کو جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کو قائم کیا ہے نہیں چھوڑتے اور اس کے باوجود وہ زمین پر اترتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے زمین والوں سے ملاقات کرتے ہیں اور مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔کبھی تو وہ انبیاء کے لئے بنی آدم کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی وہ نور کی طرح نظر آتے ہیں اور کبھی ان کو اہل کشف بچوں اور بے ریش نوجوانوں کی شکل میں دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے زمین میں ان کے اصلی وجودوں کے علاوہ نئے وجودا اپنی لطیف اور محیط قدرت سے پیدا کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی آسمانوں میں بھی ان کے اجسام ہوتے ہیں اور وہ ان سماوی اجسام سے علیحدہ نہیں ہوتے اور اپنے مقامات سے نہیں ہٹتے اور انبیاء پر اور دوسرے سب لوگوں کی طرف جن کی طرف وہ بھیجے جاتے ہیں، نازل ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے اصل مقامات کو نہیں چھوڑتے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے تو اس سے تعجب نہ کر۔کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر امر پر قادر ہے۔پس تو جھٹلانے والوں میں سے نہ بن۔درجات ملائکہ ملا یک اللہ (جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں) ایک ہی درجہ کی عظمت اور بزرگی نہیں رکھتے نہ ایک ہی قسم کا کام انہیں سپرد ہے بلکہ ہر ایک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کاموں کے انجام دینے کے لیے مقرر کیا گیا ہے دنیا میں جس قدرتم تغیرات وانقلابات دیکھتے ہو یا جو کچھ کمن قوۃ سے حیر فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح واجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر تاثیرات ساو یہ کام کر رہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی استعدادوں پر مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے۔توضیح مرام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 86-85) ملائکہ کا دائرہ کار فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا۔(النزعت : 6) خدا تعالیٰ نے آیت فَالْمُدَتِرَاتِ اَمْرًا۔میں فرشتوں اور ستاروں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے۔یعنی اس آیت میں کواکب سبع کو ظاہری طور پر مُدَبِّرُ مَا فِی الْأَرْضِ ٹھہرایا ہے اور ملا یک کو باطنی طور پر ان چیزوں کا مد برقرار دیا ہے۔چنانچہ تفسیر فتح البیان میں معاذ بن جبل اور قشیری سے یہ دونوں روایتیں موجود ہیں اور ابن کثیر نے حسن سے یہ روایت ملا یک کی نسبت کی ہے کہ تُدَبِّرُ الأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْاَرْضِ یعنی آسمان سے زمین تک جس قدر امور کی تدبیر ہوتی ہے وہ سب ملایک کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور ابن کثیر لکھتا ہے کو یہ متفق علیہ قول ہے کہ مدبرات امر ملا یک ہیں۔