حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 33 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 33

33 حضرت اقدس کو قرآنِ کریم کے رموز بتائے گئے أَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا (الانبياء: 31 ) زمین اور آسمان دونوں ایک گھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے جن کے جو ہر مخفی تھے ہم نے مسیح کے زمانہ میں وہ دونوں گھڑیاں کھول دیں اور دونو کے جو ہر ظاہر کر دئے۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔رخ جلد 17 صفحہ 17) فبعثنی ربى ليجعلني دليلا على وجوده۔ولیصیر نی ازهر الزهر من رياض لطفه وجوده۔فـجـئـت وقد ظهر بی سبیله۔واتضح دليله وعلمت مجاهله۔ووردت مناهله۔ان السموات والارض كانتا رتقا ففتقنا بقدومي وعلم الطلباء بعلومي فانا الباب للدخول في الهدى وانا النور الذي يرى ولايرى وانى من اكبر نعماء الرحمان۔واعظم آلاء الديان۔رزقت من ظواهر الملة وخوافيها واعطيت علم الصحف المطهرة ومافيها۔وليس احد اشقر من الذي يجهل مقامى۔ويعرض عن دعوتى وطعامى وما جئت من نفسی بل ار سلنی ربی لامون الاسلام واراعى شئونه والاحكام۔(تذکرہ الشہادتین۔رخ جلد 20 صفحہ 90-91) ترجمه از مرتب : پس میرے رب نے مجھے مبعوث کیا تا کہ مجھے اس کے وجود پر دلیل ٹھہرائے تا کہ مجھے اپنے لطف کے باغ کا ایک خوبصورت پھول بنا دے اور عطا کا۔پس میں آیا اور میرے ذریعے اس کا راستہ کھولا گیا۔اور دلیل واضح ہوگئی۔اور مجھے اس کے مشکل مقامات کا علم دیا گیا۔اور اس کے احسان مجھ پر وارد ہوئے۔یقیناً آسمان اور مین بند تھے پس وہ دونوں میرے آنے سے کھول دیئے گئے اور علم کے طالب کو میر اعلم دیا گیا۔پس میں ہدایت میں داخل ہونے کا دروازہ ہوں اور یقیناً ایک ایسا نور ہوں جن سے دیکھا جاتا ہے دکھا یا نہیں جاتا۔میں یقینا رحمان خدا کی بڑی نعمتوں میں سے ہوں اور ان نعمتوں کا بہت بڑا بدلہ دینے والا ہوں مجھے ملت کے اندرونے اور ظاہر کے بارے میں بتایا گیا ہے اور صحف مطهره (قرآن کریم) کے کلمات اور ان کے رموز عطا کئے گئے ہیں۔اور جو کوئی بد بخت ہی ہو گا جو میرے مقام کو نہ پہنچانے۔اور میری دعوت اور خوان سے اعراض کرے۔اور میں خود سے نہیں آیا بلکہ مجھے میرے رب نے بھیجا ہے تا کہ اسلام کو بچاؤں۔اور اس کے کاموں اور احکام کی نگرانی کروں۔بعلم و فضل و کرامت کسے بما نہ رسد آنکه ز ارباب ادعا باشد علم وفضل اور کرامت کے زور سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکتا کہاں ہے وہ شخص جو علم و فضل و کرامت کا مدعی ہے ہزار نقد نمائی یکے چوسکه ما به نقش خوب و عیار و صفا کجا باشد تو ہزاروں سکے دکھائے پھر بھی چمک دمک اور کھرا ہونے میں ہمارے سکہ کی برابری نہیں کر سکتا موید یکه مسیحا دم ست و مهدی وقت بشان اور گرے کے زاتقیا باشد وہ تائید یافتہ شخص جو مسیحا دم اور مہدی وقت ہے اس کی شان کو اتقیا میں سے کوئی نہیں پہنچ سکتا چو غنچه بود جہانے خموش و سربسته من آمدم بقدومیکه از صبا باشد یہ جہان ایک غنچہ کی طرح بند تھا میں اس کے لیے ان برکتوں کو لے کر آیا ہوں جو باد صبا لایا کرتی ہے در تشین فارسی صفحه 270 ) ( تریاق القلوب - رخ جلد 15 صفحہ 133) کجا سرت