حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 34
34 هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُوْلاً مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ وَّاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ (الجمعة: 43) فرماتا ہے۔واخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی اس نبی کے اور شاگر د بھی ہیں جو ہنوز ظاہر نہیں ہوئے اور آخری زمانہ میں ان کا ظہور ہوگا۔یہ آیت اسی عاجز کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جیسا کہ ابھی الہام میں ذکر ہو چکا ہے یہ عاجز روحانی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں میں سے ہے اور یہ پیشگوئی جو قرآنی تعلیم کی طرف اشارہ کرتی ہے اس کی تصدیق کے لئے کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی تھی جس کی طرف کسی مخالف نے رُخ نہیں کیا اور مجھے خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک رُوح پر غلبہ دیا گیا ہے اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ میں نے قرآنی تفسیر کے لئے بار بار ان کو بلایا تو خدا اس کو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔سو فہم قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ اللہ جل شانہ کا ایک نشان ہے۔میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب دنیا دیکھے گی کہ میں اس بیان میں سچا ہوں۔(سراج منیر رخ۔جلد 12 صفحہ 41) جو کچھ اللہ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دوہی زمانوں میں ہوئی تھی ایک آپ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح و مہدی کا زمانہ یعنی ایک زمانہ میں تو قرآن اور سچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اُس تعلیم پر فیج اعوج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا جس پر وہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا جیسے کہ فرمایا کہ رسول اکرم نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرام کا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ آیا ہے۔سو یہ ظاہر ہے کہ خدا نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا بلکہ آنے والے زمانہ میں خدا حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا۔آثار میں ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہوگی کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کر کے لوگوں کو اُن کی غلطیوں سے متنبہ کرے گا جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہوگئی ہوں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 25) وَقَالَ الرَّسُولُ ُيرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔(الفرقان: 31) مسلمانوں کی حالت اس وقت ایسی ہی ہو رہی ہے وہ جانتے ہیں کہ ساری ترقیوں اور کامیابیوں کی کلید یہی قرآن شریف ہے جس پر ہم کو عمل کرنا چاہئے۔مگر نہیں۔اس کی پروا بھی نہیں کی جاتی۔ایک شخص جو نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ اور پھرنری ہمدردی ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم اور ایماء سے اس طرف بلاوے تو اسے کذاب اور دجال کہا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا قابل رحم حالت اس قوم کی ہوگی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 140)