حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 572 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 572

572 خدا کا اسم اعظم الله حي قيوم بالاتفاق خدا کا اسم اعظم ہے جس کے معنے ہیں روحانی اور جسمانی طور پر زندہ کرنے والا اور ہر دو قسم کی زندگی کا دائمی سہارا اور قائم بالذات اور سب کو اپنی ذاتی کشش سے قائم رکھنے والا اور اللہ جس کا ترجمہ ہے وہ معبود۔یعنی وہ ذات جو غیر مدرک اور فوق العقول اور وراء الوراء اور دقیق در دقیق ہے جس کی طرف ہر ایک چیز عا بدانہ رنگ میں یعنی عشقی فنا کی حالت میں جو نظری فنا ہے یا حقیقی فنا کی حالت میں جو موت ہے رجوع کر رہی ہے۔جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ تمام نظام اپنے خواص کو نہیں چھوڑ تا گویا ایک حکم کا پابند ہے۔اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا اسم اعظم ہے یعنی اللہ الحی القیوم اس کے مقابل پر شیطان کا اسم اعظم الدجال ہے توحید مدار ایمان ہے (تحفہ گولڑویہ۔رخ۔جلد 17 صفحہ 268) قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے۔قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۔اَللَّهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ۔وَ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ۔یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے۔نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی از لی اور ابدی یعنی انادی اور ا کال ہے نہ کسی چیز کے صفات اس کی صفات کے مانند ہیں۔انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور بائیں ہمہ غیر محدود ہے انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔اس لئے اس کی تو حید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔پھر اس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی یہ تو حید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے۔لیکچر لاہور۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 155-154)