حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 560
560 دیکھو جو حرام پر جلدی نہیں دوڑتا بلکہ اس سے بچتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لیے حلال کا ذریعہ نکال دیتا ہے۔مَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 3) جو سود دینے اور ایسے حرام کاموں سے بچے خدا تعالیٰ اس کے لیے کوئی سبیل بنا دے گا۔ایک کی نیکی اور نیک خیال کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے۔کوئی اپنی جگہ پر استقلال رکھے تو (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 436-435) سود خور بھی مفت دینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔سودی اموال اشاعت دین کے لئے جائز ہیں سود کا روپیہ تصرف ذاتی کے واسطے نا جائز ہے۔لیکن خدا کے واسطے کوئی شے حرام نہیں۔خدا کے کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ حرام نہیں ہے۔اس کی مثال اس طرح سے ہے۔کہ گولی بارود کا چلا نا کیساہی ناجائز اور گناہ ہو۔لیکن جو شخص اسے ایک جانی دشمن پر مقابلہ کے واسطے نہیں چلاتا وہ قریب ہے۔کہ خود ہلاک ہو جائے کیا خدا نے نہیں فرمایا۔کہ تین دن کے بھوکے کے واسطے سو ر بھی حرام نہیں بلکہ حلال ہے۔پس سود کا مال اگر ہم خدا کے لیے لگائیں تو پھر کیونکر گناہ ہو سکتا ہے اس میں مخلوق کا حصہ نہیں۔لیکن اعلائے کلمہ اسلام میں اور اسلام کی جان بچانے کے لیے اس کا خرچ کرنا ہم اطمینان اور شلج قلب سے کہتے ہیں۔کہ یہ بھی فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ (البقرة : 174) میں داخل ہے۔یہ ایک استثناء ہے۔اشاعت اسلام کے واسطے ہزاروں حاجتیں ایسی پڑتی ہیں۔جن میں مال کی ضرورت ہے۔بینک کے سود کے متعلق فرمایا ( بدر جلد اول نمبر 26 مورخہ ستمبر 1905 صفحہ 4) (تفسیر حضرت اقدس جلد دوم صفحہ 388) ہمارا یہی مذہب ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہمارے دل میں ڈالا ہے کہ ایسا روپیہ اشاعت دین کے کام میں خرچ کیا جاوے۔یہ بالکل سچ ہے کہ سود حرام ہے لیکن اپنے نفس کے واسطے اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں جو چیز جاتی ہے وہ حرام نہیں رہ سکتی ہے کیونکہ حرمت اشیاء کی انسان کے لیے ہے نہ اللہ تعالیٰ کے واسطے۔پس سودا اپنے نفس کے لیے بیوی بچوں احباب رشتہ داروں اور ہمسایوں کے لیے بالکل حرام ہے۔لیکن اگر یہ روپیہ خالصتہ اشاعت دین کے لیے خرچ ہو تو ہر ج نہیں ہے خصوصاً اسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور پھر اس پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکوۃ بھی نہیں دیتے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 368) میرا مذ ہب جس پر خدا نے مجھے قائم کیا ہے۔اور جو قرآن شریف کا مفہوم ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس عیال اطفال دوست عزیز کے واسطے اس سود کو مباح نہیں کر سکتے۔بلکہ یہ پلید ہے۔اور اس کا گناہ ( استعمال ) حرام ہے۔لیکن اس ضعف اسلام کے زمانہ میں جبکہ دین مالی امداد کاسخت محتاج ہے اسلام کی مدد ضرور کرنی چاہیے۔جیسا کہ ہم نے مثال کے طور پر بیان کیا ہے۔کہ جاپانیوں کے واسطے ایک کتاب لکھی جاوے۔اور کسی فصیح بلیغ جاپانی کو ایک ہزار روپیہ دے کر ترجمہ کرایا جائے۔اور پھر اس کا دس ہزار نسخہ چھاپ کر جاپان میں شائع کر دیا جاوے۔ایسے