حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 559 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 559

559 اگر حکومت نفع دیتی ہے تو وہ سود نہیں ایک صاحب نے بیان کیا کہ سید احمد خان صاحب نے لکھا ہے اضعَافًا مُّضْعَفَةً۔(ال عمران : 131) کی ممانعت ہے۔فرمایا کہ یہ بات غلط ہے کہ سود در سود کی ممانعت کی گئی ہے اور سود جائز رکھا ہے شریعت کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے یہ فقرے اسی قسم کے ہوتے ہیں جیسے کہا جاتا کہ گناہ در گناہ مت کرتے جاؤ اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرو۔اس قسم کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جبکہ لینے والا اسی خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھ کو سود ملے ورنہ گورنمنٹ جو اپنی طرف سے احسانا دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 167) سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے یہ تعریف جہاں صادق آوئے گی وہ سود کہلا ویگا۔لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے۔وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرض نہیں لیا کہ ادائیگی کے وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ) دید یا ہو۔یہ خیال رہنا چاہیئے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔سود حرام ہے ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 167-166 ) إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔(البقرة: 174) دیکھوسود کا کس قدر سنگین گناہ ہے۔کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں سور کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔(البقرة: 174) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔اللہ غفور رحیم ہے مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرّبوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ (البقرة:280-279) اگر سود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خدا تعالیٰ پر تو کل کرتا ہے اسے حاجت ہی نہیں پڑتی۔مسلمان اگر ابتلاء میں ہیں تو یہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہو جاتے ہیں۔خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ کے مصداق۔پس کیا ضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں؟ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه : 435)