حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 558
558 سود کی تعریف ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں ان کی تنخواہ میں سے ار (ایک آنہ ) فی رو پیر کاٹ کر رکھا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ اور زائد بھی وہ دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔یہ تعریف جہاں صادق آویگی وہ سود کہلا دیگا۔لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ و عید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادا ئیگی وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ) دید یا ہو یہ خیال رہنا چاہیئے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔خواہش کے برخلاف جوز زیادہ ملتا ہے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 167-166) اگر محنت میں شراکت ہو تو وہ آمد سود نہیں ہے حضرت حکیم نورالدین صاحب نے ایک مسئلہ حضرت اقدس سے دریافت کیا۔کہ یہ ایک شخص ہیں۔جن کے پاس ہیں بائیس ہزار کے قریب روپیہ موجود ہے۔ایک سکھ ہے وہ ان کا روپیہ تجارت میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور ان کے اطمینان کے لیے اس نے تجویز کی ہے۔کہ یہ روپیہ بھی اپنے قبضہ میں رکھیں۔لیکن جس طرح وہ ہدایت کرے۔اسی طرح ہر ایک شے خرید کر جہاں کہے۔وہاں روانہ کریں۔اور جو روپیہ آ وے۔وہ امانت رہے۔سال کے بعد وہ سکھ دو ہزار چھ سورو پید ان کو منافع کا دے دیا کرے گا۔یہ اس غرض سے یہاں فتوی دریافت کرنے آئے ہیں۔کہ یہ روپیہ جوان کو سال کے بعد ملے گا اگر سود نہ ہو تو شرکت کر لی جاوے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ چونکہ انھوں نے خود بھی کام کرنا ہے اور ان کی محنت کو دخل ہے اور وقت بھی صرف کریں گے۔اس لیے ہر ایک شخص کی حیثیت کے لحاظ سے اس کے وقت اور محنت کی قیمت ہوا کرتی ہے۔دس دس ہزار اور دس دس لاکھ روپیہ لوگ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔لہذا میرے نزدیک تو یہ روپیہ جو ان کو وہ دیتا ہے۔سود نہیں ہے۔اور میں اس کے جواز کا فتویٰ دیتا ہوں۔اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروز بر ہو گئے ہیں۔کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔اس لیے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 166-165)