حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 548
548 کہو۔یہ کیسے تعجب کی بات ہے۔کیا مسیح کو ان کی والدہ مریم یا ان کے بھائی خدا کہتے تھے جو وہ یہی آرزو اس شخص رکھتے تھے کہ بھی خدا کہے۔انہوں نے یہ لفظ تو اپنے عزیزوں اور شاگردوں سے بھی نہیں سنا تھا۔وہ بھی استاد استاد ہی کرتے تھے پھر یہ آرزو اس غریب سے کیونکر ان کو ہوئی۔کیا وہ خوش ہوتے تھے کہ کوئی انہیں خدا کہے یہ بالکل غلط ہے ان کو نہ کسی نے خدا کہا اور نہ انہوں نے کہلوایا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 316-315) إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا۔لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا۔(الفتح: 3-2) ذنب انبیاء ہم نے ایک فتح عظیم جو ہماری طرف سے ایک عظیم الشان نشان ہے تجھ کو عطا کی ہے تا ہم وہ تمام گناہ جو تیری طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان پر اس فتح نمایاں کی نورانی چادر ڈال کر نکتہ چینوں کا خطا کار ہونا ثابت کریں۔اربعین۔رخ۔جلد 17 صفحہ 451) كَانُوا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ۔وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔(الدريت آيات 19-18) ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔کہ خدائے تعالیٰ ہمیں یہی حکم نہیں کرتا کہ جس وقت تم سے کوئی گناہ سرزد ہو اس وقت استغفار کیا کرو۔بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ بغیر گناہوں کے ارتکاب کے بھی ہم استغفار کیا کریں۔(ریویو آف ریلیجنز جلد دوم نمبر 6 بابت جون 1903 صفحہ 243) عصمت انبیاء عصمت انبیاء فرمایا:- صلیب چونکہ جرائم پیشہ کے واسطے ہے اس واسطے نبی کی شان سے بعید ہے کہ اسے بھی صلیب دی جاوے۔اس لئے توریت میں لکھا تھا کہ جو کا ٹھ پر لٹکا یا جاویے وہ ملعون ہے۔آتشک وغیرہ جو خبیث امراض خبیث لوگوں کو ہوتے ہیں اس سے بھی انبیاء محفوظ رہتے ہیں نفس قتل انبیاء کے لئے معیوب نہیں ہے مگر کسی نبی کا قتل ہونا ثابت نہیں ہے جس آلہ سے خبیث قتل ہو۔اس آلہ سے نبی قتل نہیں ہوتا۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 201) وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ۔(المائده : 68) وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس - خدا تجھے ان لوگوں کے شر سے بچائے گا کہ جو تیر ے قتل کرنے کی گھات (براہین احمدیہ - - خ - جلد 1 صفحہ 250) میں ہیں۔خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعدہ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا ہے پس اسے کوئی مخالف آزمائے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے آگ ہرگز ہم پر کام نہ کریگی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے موافق بچالے گا لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں یہ طریق انبیاء کا نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ۔(البقرة : 196) پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہرگز نہ جلیں گے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 480)