حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 531
531 یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ کے مرسل ان نشانات اور تائیدات سے شناخت کئے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ ان کے لئے دکھاتا اور ان کی نصرت کرتا ہے۔میں اپنے قول میں سچا ہوں اور خدا تعالیٰ جو دلوں کو دیکھتا ہے وہ میرے دل کے حالات سے واقف اور خبر دار ہے۔کیا تم اتنا بھی نہیں کہہ سکتے جو آل فرعون کے ایک آدمی نے کہا تھا وَ اِنْ يَّكَ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِی يَعِدُكُمُ کیا تم یہ یقین نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں کا سب سے زیادہ دشمن ہے تم سب مل کر جو مجھ پر حملہ کرو خدا تعالیٰ کا غضب اس سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے پھر اس کے غضب سے کون بچا سکتا ہے۔لیکچرلدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 276) پیشگوئی کا مقام اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ درجہ کے قرب کے بدوں ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ مقام ہوتا ہے جہاں وہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى کا مصداق ہوتا ہے اور یہ درجہ تب ملتا ہے جب دَنی فَتَدَلی کے مقام پر پہنچے۔جب تک ظلمی طور پر اپنی انسانیت کی چادر کو پھینک کر الوہیت کی چادر کے نیچے اپنے آپ کو نہ چھپائے یہ مقام اسے کب مل سکتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں بعض سلوک کی منزلوں سے ناواقف صوفیوں نے آ کر ٹھوکر کھائی ہے اور اپنے آپ کو وہ خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کی اس ٹھوکر سے ایک خطر ناک غلطی پھیلی ہے جس نے بہتوں کو ہلاک کر ڈالا اور وہ وحدت الوجود کا مسئلہ ہے جس کی حقیقت سے یہ لوگ ناواقف محض ہوتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحه 275) میرا مطلب صرف اس قدر ہے کہ میں تمہیں یہ بتاؤں کہ وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى کے درجہ پر جب تک انسان نہ پہنچے اس وقت تک اسے پیشگوئی کی قوت نہیں مل سکتی اور یہ درجہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جبکہ انسان قرب الہی حاصل کرے۔پیشگوئیوں کا پورا ہونا لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا۔(الاحزاب : 63) سارے نشانات عام لوگوں کے خیالات کے موافق کبھی پورے نہیں ہوا کرتے ہیں تو پھر انبیاء کے وقت اختلاف اور انکار کیوں ہو؟ یہودیوں سے پوچھو کہ کیا وہ مانتے ہیں کہ میچ کے آنے کے وقت سارے نشانات پورے ہو چکے تھے؟ نہیں۔یادرکھو قانون قدرت اور سنت اللہ اس معاملہ میں یہی ہے جو میں پیش کرتا ہوں لَــن تــجــد لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا۔(الاحزاب : 63) ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 381) وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْيَاتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ۔(الحج : 56) فثبت من قوله عزوجل اعنى ولا يزال الذين كفروا فى مرية منه ان العلامات القطعية المزيلة للمرية و الامارات الظاهرة الناطقة الدالة على قرب القيامة لا تظهر ابدا و انما تظهر ايات نظرية التي تحتاج الى التاويلات و لا تظهر الا في حلل الاستعارات و الا فكيف يمكن ان تنفتح ابواب السماء و ينزل منها عيسى امام اعين الناس و في يده حربة وتنزل الملئكة معه۔( حمامة البشرا ی۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 303)