حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 517
517 مجھے اس اللہ جلشانہ کی قسم ہے کہ یہ بات واقعی صحیح ہے کہ وحی آسمان سے دل پر ایسی گرتی ہے جیسے کے آفتاب کی شعاع دیوار پر۔میں ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب مکالمہ الہیہ کا وقت آتا ہے تو اول ایک دفعہ مجھ پر ایک ر بودگی طاری ہوتی ہے تب میں ایک تبدیل یافتہ چیز کی مانند ہو جاتا ہوں اور میری حس اور میرا ادراک اور ہوش گو بگفتن باقی ہوتا ہے مگر اس وقت میں پاتا ہوں کہ گویا ایک وجود شدید الطاقت نے میرے تمام وجود کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے اور اس وقت احساس کرتا ہوں کہ میری ہستی کی تمام رگیں اس کے ہاتھ میں ہیں اور جو کچھ میرا ہے اب وہ میرا ( برکات الدعا۔رخ- جلد 6 صفحہ 22 حاشیہ ) نہیں بلکہ اس کا ہے۔ا لَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَ يُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ وَ مَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ۔(الزمر: 37) میرے والد صاحب میرزا غلام مرتضی مرحوم کی وفات کا جب وقت قریب آیا اور صرف چند پہر باقی رہ گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کی وفات سے مجھے ان الفاظ عزا پر سی کے ساتھ خبر دی۔وَ السَّمَاءِ وَ الطَّارِقِ یعنی قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد ظہور میں آئے گا اور چونکہ ان کی زندگی سے بہت سے وجود معاش ہمارے وابستہ تھے اس لئے بشریت کے تقاضا سے یہ خیال دل میں گذرا کہ ان کی وفات ہمارے لئے بہت سے مصائب کا موجب ہوگی کیونکہ وہ رقم کثیر آمدنی کی ضبط ہو جائے گی جو ان کی زندگی سے وابستہ تھی۔اس خیال کے آنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا الَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔تب وہ خیال یوں اُڑ گیا جیسا کہ روشنی کے نکلنے سے تاریکی اُڑ جاتی ہے۔( تریاق القلوب - ر-خ- جلد 15 صفحہ 198) کلام الہی اور الہام میں فرق کلام اور الہام میں فرق یہ ہے کہ الہام کا چشمہ تو گویا ہر وقت مقرب لوگوں میں بہتا ہے اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے اور روح القدس کے دکھائے دیکھتے اور روح القدس کے سنائے سنتے اور ان کے تمام ارادے روح القدس کے نفخ سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے۔۔۔کہ وہ خلقی طور پر اس آیت کے مصداق ہوتے ہیں۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم: 4۔5) لیکن مکالمہ الہيہ ایک الگ امر ہے اور وہ یہ ہے کہ وحی متلو کی طرح خدا تعالیٰ کا کلام ان پر نازل ہوتا ہے اور وہ اپنے سوالات کا خدائے تعالیٰ سے ایسا جواب پاتے ہیں کہ جیسا ایک دوست دوست کو جواب دیتا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام - ر - خ - جلد 5 صفحه - 231)