حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 518
518 حضرت اقدس کا مکالمہ و مخاطبہ احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسی اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا یعنی اس کثرت سے مکالمہ ومخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ اَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ۔(الجن (28-27) یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 406) خصوصیات الهام مامورین کھلاغیب صرف نبی مامور پر ظاہر ہوتا ہے ہر ایک مومن پر غیب کامل کے امور ظاہر نہیں کئے جاتے بلکہ محض ان بندوں پر جو اصطفاء اور اجتہاء کا مرتبہ رکھتے ہیں ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا۔إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ۔(الجن (28-27) یعنی اللہ اپنے غیب پر کسی کو غالب ہونے نہیں دیتا مگر ان لوگوں کو جو اس کے رسول اور اس کی درگاہ کے پسندیدہ ہوں۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 86 ) کھلی کھلی غیب کی بات بتلانا بجز نبی کے اور کسی کا کام نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ۔الجن) 28-27) یعنی خدا اپنے غیب پر بجز برگزیدہ (حقیقۃ الوحی - ر- خ- جلد 22 صفحہ 204) رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں فرماتا۔الهام مامورین نزول وحی کا فلسفہ نور وحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے تاریکی پروار نہیں ہوتا کیونکہ فیضان کے لئے مناسبت شرط ہے اور تاریکی کونور سے کچھ مناسبت نہیں بلکہ نور کو نور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعائت مناسبت کونور کوئی کام نہیں کرتا ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اس کو اور نور بھی دیا جاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 196-195)