حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 514 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 514

514 حاصل نہیں ہوسکتی۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُو بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ (حم السجدة: 31) سیاسی امر کی طرف اشارہ ہے۔نزول وحی کا ان کے ساتھ وابستہ ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مستقیم ہیں اور وہ صرف مسلمان ہی ہیں۔وحی ہی وہ شئی ہے کہ جس سے انا الموجود کی آواز کان میں آ کر ہر ایک شک وشبہ سے ایمان کو نجات دیتی ہے اور بغیر جس کے مرتبہ یقین کامل انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کشف میں یہ آواز کبھی نہیں سنائی دیتی اور یہی وجہ ہے کہ صاحب کشف ایک دہر یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن صاحب وحی بھی دہر یہ نہیں ہوگا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 246) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا۔(الشمس: 10) ایک مسلمان کا کشف جس قدر صاف ہوگا اس قدر غیر مسلم کا ہرگز صاف نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مسلم اور غیر مسلم میں تمیز رکھتا ہے اور فرماتا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّهَا۔الہام بجز موافقت قرآن کے حجت نہیں ہے (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 247) الہام ولایت یا الہام عامہ مومنیں بجز موافقت و مطابقت قرآن کریم کے حجت بھی نہیں۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 440) اقسام کلام الہی وَ مَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْمِنُ وَّرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔(الشورى :52) قبل اس کے کہ اس آیت کے حل کی طرف ہم متوجہ ہوں ہم عملاً دیکھتے ہیں وہ تین ہی طریقے ہیں خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کے چوتھا کوئی نہیں (1) رویا (2) مکاشفہ (3) وحی۔۔۔مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ سے مرادر ویا کا ذریعہ ہے۔مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ کے معنی یہ ہیں کہ اس پر استعارے غالب رہتے ہیں جو حجاب کا رنگ رکھتے ہیں اور یہی رؤیا کی ہیئت ہے۔يُرْسِلَ رَسُولًا سے مراد مکاشفہ ہے۔رسول کا تمثل بھی مکاشفہ میں ہی ہوتا ہے اور مکاشفہ کی حقیقت یہی ( ملفوظات جلد اول صفحہ 381) ہے کہ وہ تمثلات ہی کا سلسلہ ہوتا ہے۔(فارسی متن ) کلام الہی بر سه قسم است - وحی - رویا - کشف۔وحی آنکہ بلا واسطے شخصے بر قلب مطہرہ نبوی فرود آید۔و آں کلام اجلی و روشن می باشد - نظیرش بیان فرمودند که مثلاً حافظ صاحب نابینا که پیش ما نشسته اند در سماع کلام ماہرگز غلطی نمی خورند و نمے دانند که آواز مسموع کلام غیر ما باشد۔اگر چه از چشم ظاہر مارا نمی بینند۔دیگر رؤیا و منام ست کہ آں کلام رنگین و لطیف و کنایه دارو و ذوی الوجوه است چون ویدن رسول اللہ علیہ وسلم سوارین در دست مبارک خویش یا معائنہ فرمودن یکے زوجہ مطہرہ خود را طویل یدین و دیدن بقرہ وغیرہ ایں چنیں کلام الہی تعبیر طلب است سوم کشف است و آن تمثل است خواه بصورت جبریل باشد یا فرشته یا دیگر اشیاء۔پس آیت شریفہ خواندند أَنْ يُكَلِمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيا اَوْمِنُ وَرَائِ حِجَابٍ اَوْيُرُسِلَ رَسُولًا ارشاد شد کہ سوائے امور ثلاثہ مذکورہ کلام الہی را طریقے نیست۔( ملفوظات جلد اول صفحه 383)