حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 515
515 ( ترجمه از مرتب ) کلام الہی کی تین قسمیں ہیں وحی۔رؤیا۔کشف۔وحی وہ ہے جو کسی واسطہ کے بغیر نبی کے پاک اور مطہر دل پر نازل ہو اور یہ کلام زیادہ صاف اور روشن ہوتا ہے۔اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ مثلاً یہ حافظ صاحب نابینا جو ہمارے سامنے بیٹھے ہیں وہ ہمارے کلام کے سنے میں ہرگز کوئی غلطی نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ سنی ہوئی آواز ہمارے غیر کی آواز ہو سکتی ہے۔اگر چہ وہ ظاہری آنکھ سے ہمیں نہیں دیکھ رہے۔دوسری قسم رویا اور خواب ہے کہ یہ کلام رنگین اور لطیف ہوتا ہے اور اس میں کنا یہ ہوتا ہے اور وہ ذوالوجوہ ہوتا ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے دونوں مبارک ہاتھوں میں دو کنگنوں کا دیکھنا یا اپنی ایک بیوی کے سب سے زیادہ لمبے ہاتھ دیکھنا یا گائے وغیرہ کو دیکھنا۔اس قسم کا کلام تعبیر طلب ہوتا ہے۔تیسری قسم کلام کی کشف ہے اور یہ تمثل کی صورت میں ہوتا ہے چاہے وہ بصورت جبرائیل علیہ السلام ہو یا کسی اور فرشتہ یا کسی دوسری چیز کی صورت میں ہو۔۔۔پس آیت آن يُكَلَّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيا اَوْمِنْ وَرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا میں سوائے مذکورہ بالا تین طریقوں کے کلام الہی کا اور کوئی طریق نہیں بتایا گیا۔اکمل اور اتم وحی والہام وجی کے اقسام ثلاثہ میں اکمل اور تم وہ وحی ہے جو علم کی تیسری قسم میں داخل ہے جس کا پانے والا انوار سبحانی میں سرا پا غرق ہوتا ہے اور وہ تیسری قسم حق الیقین کے نام سے موسوم ہے۔(حقیقۃ الوحی-رخ- جلد 22 صفحہ 50) ان الوحي كـمـا يـنـزل عـلـى الانبياء كذلك ينزل على الاولياء و لا فرق في نزول الوحى بين ان يكون الى نبى او ولى و لكل حظ من مكالمات الله تعالىی و مخاطباته على حسب المدارج۔نعم يوحى الانبياء شان اتم و اكمل و اقوى اقسام الوحى وحى رسولنا خاتم النبيين۔(تحفہء بغداد۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 28-27 حاشیہ) ترجمه از مرتب :۔وحی جیسے انبیاء پر نازل ہوتی ہے ویسے ہی وہ اولیا ء پر نازل ہوتی ہے اور نبی اور ولی پر وحی کے نزول میں کوئی فرق نہیں ہوتا ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات سے علی حسب المدارج حصہ ملتا ہے ہاں انبیاء کی وحی کو ایک شان اتم اور اکمل حاصل ہوتی ہے اور وحی کی اقسام میں سے زیادہ قوی وہ وحی ہے جو ہمارے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔حدیث النفس اور شیطانی القاء إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا۔(المزمل :6) بعض لوگ حدیث النفس اور شیطان کے القاء کو الہام الہی سے تمیز نہیں کر سکتے اور دھوکا کھا جاتے ہیں۔خدا کی طرف سے جو بات آتی ہے وہ پر شوکت اور لذیذ ہوتی ہے۔دل پر ایک ٹھوکر مارنے والی ہوتی ہے۔وہ خدا کی انگلیوں سے نکلی ہوئی ہوتی ہے۔اس کا ہم وزن کوئی نہیں وہ فولاد کی طرح گرنے والی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے إِنَّا سَنُلْقِی عَلَيْكَ قَوْلًا تَقِیلا۔ثقیل کے یہی معنی ہیں مگر شیطان اور نفس کا القاء ایسا نہیں ہوتا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 470)