حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 501 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 501

501 حتى تضع الحرب اوزارھا ہے۔دیکھو بیچ بخاری موجود ہے جو قرآن شریف کے بعد اصح الکتب مانی گئی ہے۔اس کو غور سے پڑھو۔اے اسلام کے عالمو اور مولویو! میری بات سنو! میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب جہاد کا وقت نہیں ہے۔خدا کے پاک بنی کے نا فرمان مت نبو مسیح موعود جو آنے والا تھا آ چکا۔اور اس نے حکم بھی دیا کہ آئیندہ مذہبی جنگوں سے جو تلوار اور گشت وخون کے ساتھ ہوئی ہیں باز آ جاؤ تو اب بھی خونریزی سے باز نہ آنا اور ایسے وعظوں سے مونہ بند نہ کرنا طریق اسلام نہیں ہے۔جس نے مجھے قبول کیا ہے وہ نہ صرف ان وعظوں سے مونہہ بند کرے گا بلکہ اس طریق کو نہایت برا اور موجب غضب الہی جانے گا۔( گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔۔خ۔جلد 17 صفحہ 9-8) غرض اب جب مسیح موعود آ گیا تو ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جہاد سے باز آوے۔اگر میں نہ آیا ہوتا تو شائد اس غلط فہمی کا کسی قدر عذر بھی ہوتا۔مگر اب تو میں آ گیا اور تم نے وعدہ کا دن دیکھ لیا۔اس لئے اب مذہبی طور پر تلوار اٹھانے والوں کا خدا تعالے کے سامنے کوئی عذر نہیں۔جو شخص آنکھیں رکھتا ہے اور حد بیٹوں کو پڑھتا اور قرآن کو دیکھتا ہے وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ طریق جہاد جس پر اس زمانہ کے اکثر وحشی کار بند ہورہے ہیں یہ اسلامی جہاد نہیں ہے۔بلکہ یہ نفس امارہ کے جوشوں سے یا بہشت کی طرح خام سے ناجائز حرکات ہیں جو مسلمانوں میں پھیل گئے ہیں۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 10-9) مسیح موعود دنیا میں آیا ہے تاکہ دین کے نام سے تلوار اٹھانے کے خیال کو دور کرے۔اور اپنے حج اور براہین سے ثابت کر دکھائے کہ اسلام ایک ایسا مذ ہب ہے جو اپنی اشاعت میں تلوار کی مددکا ہر گز محتاج نہیں بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اس کے حقائق و معارف وحج و براہین اور خدا تعالیٰ کی زندہ تائیدات اور نشانات اور اس کا ذاتی جذب ایسی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہوئی ہیں۔اس لئے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس دعوی میں جھوٹے ہیں۔اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں۔اگر کسی کو شک ہے تو وہ میرے پاس رہ کر دیکھ لے کہ اسلام اپنی زندگی کا ثبوت براہین اور نشانات سے دیتا ہے۔اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ ان تمام اعتراضوں کو اسلام کے پاک وجود سے دور کر دے جو خبیث آدمیوں نے اس پر کئے ہیں۔تلوار کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا اعتراض کرنے والے اب سخت شرمندہ ہونگے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 129) آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اُٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔سواب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔خدا تعالے کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالے کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 296-295)