حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 488
488 بهرزه طالب آن مهدی و مسیح مباش که کارشاں ہمہ خونریزی دوغا باشد بیہودگی سے تو اس مسیح اور مہدی کا طلبگار نہ ہو۔جن کا کام سراسر خونریزی اور جنگ ہوگا۔عزیز من رو تائید دین دگر را ہے ست نه این که تیغ برآری اگر ابا باشد اے میرے عزیز دین کی تائید کا اور ہی رستہ ہے یہ نہیں کہ اگر کوئی انکار کرے تو تو فورا تلوار نکال لے۔چه حاجت است که تیغ از برائے دیں بکشی نه دین بود که به خونریزیش بقا باشد اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ تو دین کی خاطر تلوار کھینچے وہ دین دین نہیں جس کی بنا خونریزی پر ہو۔چودیں مدلل و معقول و با ضیا باشد کدام دل کہ ازاں مذھبش ابا باشد جبکہ دین مدلل معقول اور روشن ہو تو وہ کونسا دل ہوگا جسے ایسے مذہب سے انکار ہو۔درست بود خنجری نمی باید که زور قول موجه عجب نما باشد چودیں جب دین صحیح ہو تو اس کے لیے خنجر در کار نہیں کیونکہ بادلائل کلام کی طاقت معجز نما ہوتی ہے۔تو از سرائے طبیعت نیا مدی بیروں ازیں ہمہ ہوست جبر با جفا باشد چونکہ تو ابھی نفسانی خواہشات کے چکر سے نہیں نکلا اس وجہ سے تیری ساری خواہش ظالمانہ جبر کے لیے ہے۔ز جبر حجت حق بر جہاں نیا ید راست برو دلیل بده گر خرد ترا باشد سچائی کو دنیا میں جبراً پھیلا نا مناسب نہیں۔اگر تجھے عقل ہے تو جا اور اس کے برخلاف دلائل پیش کر۔ز جبر کو کینه صدق را شکست آید ازین بود که ره جبرها خطا باشد جبر سے تو راست بازوں کی جماعت ٹوٹ جاتی ہے۔اسی وجہ سے جبر کا طریقہ غلط ہے۔بهوش باش که جبراست خود دلیل گریز تسلی دل مردم ازین کجا باشد خبر دار ہو کہ جبر تو خود شکست کی دلیل ہے اس سے لوگوں کے دلوں کی تسلی کہاں ہوتی ہے۔مرا بکفر کنی متهم ازین گفتار که کفر نزد تو ابرار را سزا باشد تو اس بات کی وجہ سے مجھ پر کفر کا الزام لگا تا ہے کیونکہ تیرے نزدیک نیکوں کو کافر کہنا درست ہے۔درشین فارسی متر جم صفحہ 269-268) ( تریاق القلوب - ر-خ- جلد 15 صفحہ 133-132 )