حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 22
22 حضرت اقدس الہام اور وحی سے قرآن کو سمجھتے ہیں علم غیب از وحی خلاق جہاں ہر ہمیچوں شاہداں استادہ اند قرآن کا علم اس پاک زبان کا علم اور الہام الہی سے غیب کا علم۔علم قرآن علم آں طیب زباں این سه علم چون نشانها داده اند یہ تین علم مجھے نشان کے طور پر دیے گئے ہیں اور تینوں بطور گواہ میری تائید میں کھڑے ہیں۔در مشین فارسی صفحہ 187 نیا ایڈیشن ) ( تحفہ غزنویہ۔رخ جلد 15 صفحہ 533) حضرت مسیح موعود علیہ السلام : یہ خدا کا بڑا فضل ہے اور خوش قسمتی آپ کی ہے کہ آپ ادھر آ نکلے۔یہ بات واقعی سچ ہے کہ جو مسلمان ہیں یہ قرآن شریف کو بالکل نہیں سمجھتے لیکن اب خدا کا ارادہ ہے کہ صحیح معنی قرآن کے ظاہر کرے خدا نے مجھے اسی لئے مامور کیا ہے اور میں اس کے الہام اور وحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں قرآن شریف کی ایسی تعلیم ہے کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا اور معقولات سے ایسی پُر ہے کہ ایک فلاسفر کو بھی اعتراض کا موقعہ نہیں ملتا مگر ان مسلمانوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی طرف سے ایسی ایسی باتیں بنا کر قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے قدم قدم پر اعتراض وارد ہوتا ہے اور ایسے دعاوی اپنی طرف سے کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اور وہ سراسر اس کے خلاف ہیں مثلاً اب یہی واقعہ صلیب کا دیکھو کہ اس میں کس قدر افتراء سے کام لیا گیا ہے اور قرآن کریم کی مخالفت کی گئی ہے اور یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بھی برخلاف ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 451-450) ان لوگوں کو قرآن کا علم نہیں ہے اور نہ خدا سے الہام پاتے ہیں کہ تا خدا کے کلام کے معنی خدا سے معلوم کریں۔اور اس طرح پر ناحق ایک خلاف واقعہ بات کی یاد دہانی کراتے رہتے ہیں۔مجھے خدا نے قرآن کا علم دیا ہے۔اور زبان عرب کے محاورات کے سمجھنے کیلئے وہ فہم عطا کیا ہے کہ میں بلا فخر کہتا ہوں کہ اس ملک میں کسی دوسرے کو یہ فہم عطا نہیں ہوا میں زور سے کہتا ہوں کہ قرآن میں ایسی تعلیم ہر گز نہیں ہے کہ دین کو تلوار کے ساتھ مدد دی جائے یا اعتراض کرنے والوں پر تلوار اٹھائی جائے۔( کشف الغطاء۔رخ جلد 14 صفحہ 208) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ ، وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ 0 وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ط وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة:3 تا4) منعم علیہم کے کامل طور پر مصداق باعتبار کثرت کمیت اور صفائی کیفیت اور نعمائے حضرت احدیت از روئے نص صریح قرآنی اور احادیث متواترہ حضرت مرسل یزدانی دو گروہ ہیں ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گر وہ جماعت مسیح موعود۔کیونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں کسی اپنے اجتہاد کے محتاج نہیں۔وجہ یہ ہے کہ پہلے گروہ میں رسول اللہ ﷺے موجود تھے جو خدا سے براہ راست ہدایت پا کر وہی ہدایت نبوت کی پاک توجہ کے ساتھ صحابہ کے دل میں ڈالتے تھے اور ان کیلئے مربی بے واسطہ تھے اور دوسرے گروہ میں مسیح موعود ہے جو خدا سے الہام پاتا اور حضرت رسول اللہ ﷺ کی روحانیت سے فیض اٹھاتا ہے لہذا اس کی جماعت بھی اجتہاد خشک کی محتاج نہیں ہے جیسا کہ آیت وَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعہ: 4) سے سمجھا جاتا ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 224)