حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 475
475 قراین قومیہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر ہرگز نہیں گیا اور نہ آسمان کا لفظ اس آیت میں موجود ہے بکہ لفظ تو صرف یہ ہے اِنِّی مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ پھر دوسری جگہ ہے۔بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ جس کے یہ معنے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مسیح کو موت دے کر پھر اپنی طرف اٹھا لیا جیسا کہ یہ عام محاورہ ہے کہ نیک بندوں کی نسبت جب وہ مرجاتے ہیں یہی کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا ہے۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 247-246) خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانے کے یہی معنے ہیں کہ فوت ہو جانا۔خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكَ (الفجر : 29) اور یہ کہنا کہ اِنِّی مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلَی ایک ہی معنے رکھتا ہے سوا اس کے جس وضاحت اور تفصیل اور توضیح کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح کے فوت ہو جانے کا ذکر ہے اس سے بڑھ کر متصور نہیں کیونکہ خداوند عزوجل نے عام اور خاص دونوں طور پر مسیح کا فوت ہو جانا بیان فرمایا ہے۔(ازالہ اوہام - ر - خ - جلد 3 صفحہ 265-264) اس بات کے دریافت کے لیے کہ متکلم نے ایک لفظ بطور حقیقت مسلمہ استعمال کیا ہے یا بطور مجاز اور استعارہ نادرہ کے بھی کھلی کھلی علامت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت مسلمہ کو ایک متباور اور شائع و متعارف لفظ سمجھ کر بغیر احتیاج قراین کے یونہی مختصر بیان کر دیتا ہے مگر مجاز یا استعارہ نادرہ کے وقت ایسا اختصار پسند نہیں کرتا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ کسی ایسی علامت سے جس کو ایک دانشمند سمجھ سکے اپنے اس مدعا کو ظاہر کر جائے کہ یہ لفظ اپنے اصل معنوں پر مستعمل نہیں ہوا۔اب چونکہ یہ فرق حقیقت اور مجاز کا صاف طور پر بیان ہو چکا تو جس شخص نے قرآن کریم پر اول سے آخر تک نظر ڈالی ہوگی اور جہاں جہاں توفی کا لفظ موجود ہے بنظر غور دیکھا ہوگا وہ ایمان ہمارے بیان کی تائید میں شہادت دے سکتا ہے چنانچہ بطور نمونہ دیکھنا چاہیئے کہ یہ آیات (1) امـانـریـنـک بـعـض الـذي نعدهم اونتو فینک (يونس: 47) (2) توفنى مسلما (يوسف : 102)(3) و منكم من يتوفى (الحج:6) (4) تو فهم الملائكة (النساء : 98) (5) يتوفون منكم (البقرة : (241) (6) توفته رسلنا (الانعام : 62) (7) رسلنا يتوفونهم (الاعراف : 38) (8) توفنا مسلمين (الاعراف : 127) (9)و توفنا مع الابرار (ال عمران : 194) (10) ثم يتوفكم (النحل : 71) کیسی صریح اور صاف طور پر موت کے معنوں میں استعمال کی گئی ہیں مگر کیا قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت بھی ہے کہ ان آیات کی طرح مجرد تو فی کا لفظ لکھنے سے اس سے کوئی اور معنے مراد لیے گئے ہوں موت مراد نہ لی گئی ہو بلاشبہ قطعی اور یقینی طور پر اول سے آخرتک قرآنی محاورہ یہی ثابت ہے کے ہر جگہ در حقیقت توفی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے تو پھر متنارعہ فیہ دو آیتوں کی نسبت جو إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى (ال عمران : 56)۔ہیں اپنے دل سے کوئی معنے مخالف عام محاورہ قرآن کے گھڑ نا اگر الحاد اور تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ (ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 270-269)