حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 474
474 یا درکھو کہ اب عیسی تو ہر گز نازل نہیں ہوگا کیونکہ جو اقر ار اس نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی روسے قیامت کے دن کرنا ہے اس میں صفائی سے اس کا اعتراف پایا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور قیامت کو اس کا یہی عذر ہے کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھے خبر نہیں اور اگر وہ قیامت کے پہلے دنیا میں آتا تو کیا وہ یہی جواب دیتا کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں۔لہذا اس آیت میں اس نے صاف اقرار کیا ہے کہ میں دوبارہ دنیا میں نہیں گیا اور اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آنے والا تھا اور برابر چالیس برس رہنے والا تب تو اس نے خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولا کہ مجھے عیسائیوں کے حالات کی کچھ خبر نہیں اس کو تو کہنا چاہیئے تھا کہ آمد ثانی کے وقت میں نے چالیس کروڑ کے قریب دنیا میں عیسائی پایا اور ان سب کو دیکھا اور مجھے ان کے بگڑنے کی خوب خبر ہے اور میں تو انعام کے لائق ہوں کہ تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا اور صلیبوں کو توڑا۔یہ کیسا جھوٹ ہے کہ عیسے کہے گا کہ مجھے خبر نہیں غرض اس آیت میں نہایت صفائی سے مسیح کا اقرار ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور یہی سچ ہے کہ مسیح فوت ہو چکا اور سرینگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔اب خدا خود نازل ہوگا اور ان لوگوں سے آپ لڑے گا جو سچائی سے لڑتے ہیں۔خدا کا لڑ نا قابل اعتراض نہیں کیونکہ وہ نشانوں کے رنگ میں ہے لیکن انسان کا لڑنا قابل اعتراض ہے کیونکہ وہ جبر کشتی نوح۔۔۔خ۔جلد 19 صفحہ 76) کے رنگ میں ہے۔إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَاحُكُمْ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُونَ۔(ال عمران:56) قرآن شریف کی نصوص بینہ اسی بات پر بصراحت دلالت کر رہی ہیں کہ مسیح اپنے اسی زمانہ میں فوت ہو گیا ہے جس زمانہ میں وہ نبی اسرائیل کے مفسد فرقوں کی اصلاح کے لیے آیا تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے یعیسی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ اب اس جگہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اِنِی مُتَوَفِّيكَ پہلے لکھا ہے اور رَافِعُكَ بعد اس کے بیان فرمایا ہے جس سے ثابت ہوا کہ وفات پہلے ہوئی اور رفع بعد از وفات ہوا اور پھر اور ثبوت یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ میں تیری وفات کے بعد تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر جو یہودی ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا اب ظاہر ہے اور تمام عیسائی اور مسلمان اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح کے بعد اسلام کے ظہور تک بخوبی پوری ہوگئی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کو ان لوگوں کی رعیت اور ماتحت کر دیا جو عیسائی یا مسلمان ہیں اور آجتک صد ہا برسوں سے وہ ماتحت چلے آتے ہیں یہ تو نہیں کہ حضرت مسیح کے نزول کے بعد پھر ماتحت ہوں گے ایسے معنے تو بہ بداہت فاسد ہیں۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 331-330)