حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 464 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 464

464 كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔(التوبة: 119) اور یہ کہنا کہ ہمارے لئے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبة: 119) اور صادق وہ ہیں جنہوں نے صدق کو علی وجہ البصیرت شناخت کیا اور پھر اسپر دل و جان سے قائم ہو گئے اور یہ اعلی درجہ بصیرت کا بجز اسکے ممکن نہیں کہ سماوی تائید شامل حال ہو کر اعلیٰ مرتبہ حق الیقین تک پہنچا دیوے۔پس ان معنوں کر کے صادق حقیقی انبیاء اور رسل اور محدث اور اولیاء کاملین مکملین ہیں جن پر آسمانی روشنی پڑی اور جنہوں نے خدا تعالیٰ کو اسی جہان میں یقین کی آنکھوں سے دیکھ لیا اور آیت موصوفہ بالا بطور اشارت ظاہر کر رہی ہے کہ دنیا صادقوں کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی کیونکہ دوام حکم وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ دوام وجود صادقین کو ستلزم ہے۔شہادت القران - ر - خ - جلد 6 صفحہ 347) محدثیت اور وراثت انبیاء پھر بعض اور آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور خدا وند کریم نے یہی ارادہ فرمایا ہے کہ روحانی معلم جو انبیاء کے وارث ہیں ہمیشہ ہوتے رہیں اور وہ یہ ہیں۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ (النور :56) وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ اَوْتَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِي وَعْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد: 32 الجزو نمبر (13) وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل : 16) یعنی خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے اے مومنان امت محمد یہ وعدہ کیا ہے کہ تمہیں بھی وہ زمین میں خلیفہ کر یگا جیسا کہ تم سے پہلوں کو کیا اور ہمیشہ کفار پر کسی قسم کی کوفتیں جسمانی ہوں یا روحانی پڑتی رہینگی یا ان کے گھر سے نزدیک آجائیں گی۔یہانتک کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ آپہنچے گا۔اورخدا تعالیٰ اپنے وعدوں میں تخلف نہیں کرتا۔اور ہم کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ایک رسول بھیج نہ لیں۔ان آیات کو اگر کوئی شخص تامل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالیٰ اس امت کے لئے خلافت دائگی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر خلافت دائی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہ دینا کیا معنی رکھتا تھا اور اگر خلافت راشدہ صرف تیس برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کیلئے اس کا دور ختم ہو گیا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ کیلئے ابواب سعادت مفتوح رکھے کیونکہ روحانی سلسلہ کی موت سے دین کی موت لازم آتی ہے اور ایسا مذہب ہرگز زندہ نہیں کہلا سکتا جس کے قبول کر نیوالے خود اپنی زبان سے ہے یہ اقرار کریں کہ تیرہ سو برس سے یہ مذہب مرا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس مذہب کے لئے ہر گز یہ ارادہ نہیں کیا کہ حقیقی زندگی کا وہ نور جو نبی کریم کے سینہ میں تھا وہ تو ارث کے طور پر دوسروں میں چلا آوے۔( شہادت القران - ر-خ- جلد 6 صفحہ 353,352)