حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 457
457 پہلی فصل مسئلہ نبوت تعریف نبوت وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِاِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُّبِيرًا۔(الاحزاب :47) انبیاء نجمله سلسله متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے ہیں اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے۔قَدْ جَانَكُمْ مِنَ اللهِ نُورٌ وَّ كِتَابٌ مُّبِينٌ الجزونمبر 6 وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا منيرا الجز نمبر 22 یہی حکمت ہے کہ نو روحی جس کے لئے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاءکو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 196 حاشیہ ) مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ وَ كَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔(الاحزاب: 41) نبوت کے معنی اظہار ا مرغیب ہے اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اسی لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنے ہیں خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا۔اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ایک غلطی کا ازالہ۔ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 210-209) نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کالا نا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اس نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس امت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک مکالمات الہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے۔وہ دین دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔(براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 21 صفحہ 306) عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ اَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ۔۔۔۔الاخر (الجن: 27 28) نبی کے معنے لغت کی رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے۔لاَ يُظهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ - اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کی رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب