حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 441
441 وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمُ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَانْقَذَكُمْ مِنْهَا طَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ ايَتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔(ال عمران : 104) کیا ہمیں قرآن کریم کے اس مرتبہ پر ایمان نہیں لانا چاہیئے جو مرتبہ وہ خود اپنے لیے قرار دیتا ہے؟ دیکھنا چاہیئے کہ وہ صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوا۔کیا اس حبل سے حدیثیں مراد ہیں؟ پھر جس حالت میں وہ اس حبل سے پنجہ مارنے کے لیے تاکید شدید فرماتا ہے تو کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم ہر ایک اختلاف کے وقت قرآن کریم کی طرف رجوع کریں؟ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 37) وَ مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ أعمى۔(طه: 125) جو شخص میرے فرمودہ سے اعراض کرے اور اس کے مخالف کی طرف مائل ہو تو اس کے لئے تنگ معیشت ہے یعنی وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب ہے اور قیامت کو اندھا اُٹھایا جائے گا۔اب ہم اگر ایک حدیث کو صریح قرآن کریم کے خلاف پائیں اور پھر مخالفت کی حالت میں بھی اس کو مان لیں اور اس تخالف کی کچھ بھی پرواہ نہ کریں تو گویا اس بات پر راضی ہو گئے کہ معارف حقہ سے بے نصیب رہیں اور قیامت کو اندھے اُٹھائے جائیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 37)