حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 410 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 410

410 ابجد اور حساب جمل کے اعتبار سے قرآن شریف کے حروف اور ان کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے۔مثلاً سورۃ والعصر کی طرف دیکھو کہ ظاہری معنوں کی رو سے یہ بتلاتی ہے کہ یہ دنیوی زندگی جس کو انسان اس قدر غفلت سے گزار رہا ہے آخری یہی زندگی ابدی خسران اور وبال کا موجب ہو جاتی ہے اور اس خسران سے وہی بچتے ہیں جو خدائے واحد پر سچے دل سے ایمان لے آتے ہیں کہ وہ موجود ہے اور پھر ایمان کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ اچھے اچھے عملوں سے اس کو راضی کریں اور پھر اسی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ اس راہ میں ہمارے جیسے اور بھی ہوں جو سچائی کو زمین پر پھیلا دیں اور خدا کے حقوق پر کار بند ہوں اور بنی نوع پر بھی رحم کریں لیکن اس سورۃ کے ساتھ یہ ایک عجیب معجزہ ہے کہ اس میں آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرت کے زمانہ تک دنیا کی تاریخ ابجد کے حساب سے یعنی حساب جمل سے بتلائی گئی ہے۔غرض قرآن شریف میں ہزار ہا معارف و حقائق ہیں اور در حقیقت شمار سے باہر ہیں۔( نزول المسیح۔رخ - جلد 18 صفحہ 422) ایک دن خدا کے نزدیک تمہارے ہزار سال کے برابر ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ دن سات ہیں پس اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ انسانی نسل کی عمر سات ہزار سال ہے جیسا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ سورۃ والعصر کے عدد جس قدر حساب جمل کی رو سے معلوم ہوتے ہیں اسی قدر زمانہ نسل انسانی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک بحساب قمری گذر چکا تھا کیونکہ خدا نے حساب قمری رکھا ہے اور اس حساب سے ہماری اس وقت تک نسل انسانی کی عمر چھ ہزار برس تک ختم ہو چکی ہے اور اب ہم ساتویں ہزار میں ہیں اور یہ ضرور تھا کہ مثیل آدم جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہتے ہیں چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جو جمعہ کے دن کے قائم مقام ہے جس میں آدم پیدا ہوا اور ایسا ہی خدا نے مجھے پیدا کیا پس اس کے مطابق چھٹے ہزار میں میری پیدائش ہوئی اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میں معمولی دنوں کی رو سے بھی جمعہ کے دن پیدا ہوا تھا۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 458 457) و انزلنا من السماء ماء بقدر فاسكنه فى الارض و انا على ذهاب به لقدرون۔(المومنون: 19) یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سنِ ہجری میں شروع ہوگا جو آیت وَ إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُوْنَ میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی ۱۲۷۴۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 455) مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیشگوئی موجود ہے۔قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس تک مدت ٹھہرائی ہے۔بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رُو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت وَ إِنَّا عَلى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُوْنَ جس کے بحساب جمل ۱۲۷۴ عدد ہیں۔اسلامی چاند کی سطح کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 464)