حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 402
402 تیرہویں فصل اسالیب قرآن کریم اصولی فرمودات سمجھنا چاہئے کہ قرآن شریف کی بلاغت ایک پاک اور مقدس بلاغت ہے۔جس کا مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ حکمت اور راستی کی روشنی کو فصیح کلام میں بیان کر کے تمام حقائق اور دقائق علم دین ایک موجز اور مدلل عبارت میں بھر دیے جائیں۔اور جہاں تفصیل کی اشد ضرورت ہو۔وہاں تفصیل ہو۔اور جہاں اجمال کافی ہو۔وہاں اجمال ہو اور کوئی صداقت دینی ایسی نہ ہو۔جس کا مفصل گیا مجملاً ذکر نہ کیا جائے۔اور باوصف اسکے ضرورت حقہ کے تقاضا سے ذکر ہو نہ غیر ضروری طور پر اور پھر کلام بھی ایسا فصیح اور سلیس اور متین ہو کہ جس سے بہتر بنانا ہر گز کسی کیلئے ممکن نہ ہو۔اور پھر وہ کلام روحانی برکات بھی اپنے ہمراہ رکھتا ہو۔یہی قرآن شریف کا دعویٰ ہے۔جس کو اس نے آپ ثابت کر دیا ہے۔اور جابجا فرما بھی دیا ہے کہ کسی مخلوق کیلئے ممکن نہیں کہ اسکی نظیر بنا سکے۔(براہین احمدیہ -رخ- جلد 1 صفحہ 477-476 حاشیہ نمبر 3) کیونکہ خدا کا فصیح کلام معارف حقہ کو کمال ایجاز سے کمال ترتیب سے کمال صفائی اور خوش بیانی سے لکھتا ہے اور وہ طریق اختیار کرتا ہے جس سے دلوں پر اعلیٰ درجہ کا اثر پڑے اور تھوڑی عبارت میں وہ علوم الہیہ سا جائیں جن پر دنیا کی ابتدا سے کسی کتاب یا دفتر نے احاطہ نہیں کیا۔یہی حقیقی فصاحت بلاغت ہے جو تکمیل نفس انسانی کے لئے ممدو معاون ہے جس کے ذریعہ سے حق کے طالب کمال مطلوب تک پہنچتے ہیں۔اور یہی وہ صفت ربانی ہے جس کا انجام پذیر ہونا بجز الہی طاقت اور اس کے علم وسیع سے ممکن نہیں۔( براہین احمدیہ - رخ - جلد 1 صفحہ 466-464 حاشیہ نمبر 3) وَ عِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ طَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِيْنٍ۔(الانعام: 60 ) قرآن شریف کا طرز بیان مختلف ہے میں نے کئی بار اشتہا دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں۔لاَ رَطْبٍ وَّلاً يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتب مُبِینٍ۔یہ ایک نا پیدا کنار سمندر ہے اپنے حقائق اور معارف کے لحاظ سے اور اپنی فصاحت و بلاغت کے رنگ میں۔اگر بشر کا کلام ہوتا توسطحی خیالات کا نمونہ دکھایا جاتا مگر یہ طرز ہی اور ہے جو بشری طرزوں سے الگ اور ممتاز ہے۔اس میں باوجود اعلی درجہ کی بلند پردازی کے نمود و نمائش بالکل نہیں۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 455) پھر علاوہ اسکے قرآن شریف نے تائید دین میں اور اور علوم سے بھی اعجازی طور پر خدمت لی ہے اور منطق اور طبعی اور فلسفہ اور بہیت اور علم نفیس اور طبابت اور علم ہندسہ اور علم بلاغت و فصاحت وغیرہ علوم کے وسائل سے علم دین کا سمجھانا اور ذہن نشین کرنا یا اسکا تفہیم درجہ بدرجہ آسان کردینا یا اسپر کوئی برہان قائم کرنا یا اس سے کسی نادان کا اعتراض اٹھانا مد نظر رکھا ہے غرض طفیلی طور پر یہ سب علوم خدمت دین کے لئے بطور خارق عادت قرآن شریف میں اس عجیب طرز سے بھرے ہوئے ہیں جن سے ہر یک درجہ کا ذہن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔(سرمه چشم آریہ۔رخ- جلد 2 صفحہ 75 حاشیہ )