حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 401
401 وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللَّهِ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَّرَآيُّ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔(الشورى: 52) کوئی چیز اپنی صفات ذاتیہ سے الگ نہیں ہو سکتی پھر خدا کا کلام جو زندہ کلام ہے کیونکر الگ ہو سکے۔پس کیا تم کہہ سکتے ہو کہ آفتاب وحی الہی اگر چہ پہلے زمانوں میں یقینی رنگ میں طلوع کرتا رہا ہے مگر اب وہ صفائی اس کو نصیب نہیں گو یا یقینی معرفت تک پہنچنے کا کوئی سامان آگے نہیں رہا بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور گو یا خدا کی سلطنت اور حکومت اور فیض رسانی کچھ تھوڑی مدت تک رہ کر ختم ہو چکی ہے لیکن خدا کا کلام اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ وہ یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ ( نزول اسیح - ر-خ- جلد 18 - صفحہ 487) عَلَيْهِمْ۔۔قرآن شریف پر شریعت ختم ہو گئی مگر وحی ختم نہیں ہوئی کیونکہ وہ بچے دین کی جان ہے۔جس دین میں وحی الہی کا سلسلہ جاری نہیں وہ دین مردہ ہے اور خدا اس کے ساتھ نہیں۔(کشتی نوح -رخ- جلد 19 صفحہ 24 حاشیہ) إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَهُ فِي إِمَامٍ مُّبِيْنٍ۔(يس: 13) قرآن شریف خود اپنے تئیں قیامت کا نمونہ ظاہر کرتا ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءًا طُهُورًا لِنُحْيِي بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا (سورة فرقان 50،49) یعنی ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا ( یعنی قرآن ) تا کہ ہم اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کریں پھر فرماتا ہے واحييـنــا بــه بلدة ميتا کذالک الخروج (سورة ق الجزو نمبر 26 ) یعنی قرآن کے ساتھ ہم نے زمین مردہ کو زندہ کیا۔ایسا ہی حشر اجساد بھی ہوگا۔پھر فرماتا إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْاوَ اثَارَهُمْ (الحدید : 18) یعنی ہم قرآن کے ساتھ مردوں کو زندہ کر رہے ہیں اور پھر فرماتا ہے اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی اے لوگو جان لو کہ زمین مرگئی تھی اور خدا اب نئے سرے اس کو زندہ کر رہا ہے۔غرض جابجا قرآن شریف کو نمونہ قیامت ٹھہرایا گیا ہے۔(ازالہ اوہام -رخ- جلد 3 صفحہ 325-322) ہے شکر رب عزوجل خارج از بیاں جس کے کلام سے ہمیں اس کا ملا نشاں وہ روشنی جو پاتے ہیں ہم اس کتاب میں ہو گی نہیں کبھی وہ ہزار آفتاب میں اس سے ہمارا پاک دل و سینہ ہو گیا اپنے منہ کا آپ ہی آئینہ ہو گیا اس نے درخت دل کو معارف کا پھل دیا ہر سینہ شک سے دھو دیا ہر دل بدل دیا اس سے خدا کا چہرہ نمودار ہو گیا شیطاں کا مکر و وسوسہ بے کار ہو گیا وہ رہ جو ذات عزوجل کو دکھاتی ہے وہ رہ جو دل کو پاک و مطہر بناتی وہ رہ جو یار گم شدہ کو کھینچ لاتی ہے وہ رہ جو جام پاک یقیں کا پلاتی وہ رہ جو اس کے ہونے پر محکم دلیل ہے وہ رہ جو اس کے پانے کی کامل سبیل ہے اس نے ہر ایک کو وہی رستہ دکھا دیا جتنے شکوک و شبہ تھے سب کو مٹا دیا قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے ( در شین اردو صفحه 91-92 ) ( براہین احمدیہ - ر - خ - جلد 21 صفحہ 11) وہ ہے ہے