حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 400
400 ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 450) قرآن شریف کی حفاظت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ توریت یا کسی اور کتاب کے لیے نہیں اسی لیے ان کتابوں میں انسانی چالاکیوں نے اپنا کام کیا۔قرآن شریف کی حفاظت کا یہ بڑاز بر دست ذریعہ ہے کہ اس کی تاثیرات کا ہمیشہ تازہ بتازہ ثبوت ملتا رہتا ہے اور یہود نے چونکہ توریت کو بالکل چھوڑ دیا ہے اور ان میں کوئی اثر اور قوت باقی نہیں رہی جوان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔چوں گمانے کنم اینجا مددِ روح قدس که مرا در دل شاں دیو نظر می آید میں یہاں روح القدس کی مد کا گمان کیونکر سکتا ہوں کہ مجھے تو ان کے دل میں دیو بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔این مددهاست در اسلام چو خورشید عیاں اسلام میں یہ امدا د سورج کی طرح ظاہر ہے کہ ہر زمانہ کے لئے نیا مسیحا آتا ہے۔کہ پہر عصر مجاے دگر می آید سرمه چشم آریہ۔ر۔خ۔جلد 2 صفحہ 287) يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا وَ مَايَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ۔(البقرة: 270) یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ہے یعنی حکمت خیر کثیر پر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اس نے خیر کثیر کو پالیا سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں۔یہ خیر کثیر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بحر محیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الہی کے تابعین کو دئیے جاتے ہیں اور ان کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقائق حقہ ان کے نفس آئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں ان پر منکشف ہوتی رہتی ہیں اور تائیدات الہیہ ہر ایک تحقیق اور تدقیق کے وقت کچھ ایسا سامان ان کے لیے میسر کر دیتی ہیں جس سے بیان ان کا ادھورا اور ناقص نہیں رہتا اور نہ کچھ غلطی واقع ہوتی ہے۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 534-533 حاشیہ 3) وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنِ۔وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطنٍ رَّحِيْمِ۔فَأَيْنَ تَذْهَبُوْنَ۔(التكوير : 25 تا 27) قرآن۔۔۔غیب کے عطا کرنے میں بخیل نہیں ہے یعنی بخیلوں کی طرح اس کا یہ کام نہیں کہ صرف آپ ہی غیب بیان کرے اور دوسرے کو غیبی قوت نہ دے سکے بلکہ آپ بھی غیب پر مشتمل ہے اور پیروی کر نیوالے پر بھی پر فیضان غیب کرتا ہے۔جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 87)