حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 399 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 399

399 جاتی ہے اس لئے کہ ان کی کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے رات دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بہ دل و جان کوشش کرتے ہیں۔پھر ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس حالت کو جو پہلے دکھ درد کی حالت ہوتی ہے لذت اور سرور سے بدل ڈالتا ہے چنانچہ اس وقت اطاعت الہی ان کی جزو بدن اور خاصہ فطرت ہو جاتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دلوں اور بدنوں پر رقت اولیت طاری ہوتی ہے یعنی ذکر ان کے دلوں میں پانی کی طرح بہنا شروع ہو جاتا ہے اور ہر بات اطاعت الہی کی ان لوگوں سے نہایت سہولت اور صفائی سے صادر ہوتی ہے نہ یہ کہ اس میں کوئی بوجھ ہو یا ان کے سینوں میں اس سے کوئی تنگی واقع ہو بلکہ وہ تو اپنے معبود کے امر کی فرمانبرداری میں لذت حاصل کرتے ہیں اور اپنے مولیٰ کی طاعت میں انہیں حلاوت آتی ہے۔پس عابدوں اور مطیعوں کی غایت کار اور معراج یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دکھوں کو لذتوں سے بدل ڈالے۔الحق لدھیانہ - ر- خ - جلد 4 صفحہ 38-37 حاشیہ) لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کے اتباع سے برکات الہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولیٰ کریم سے ہو جاتا ہے خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام ان کے دلوں پر اترتے ہیں اور معارف اور نکات ان کے مونہہ سے نکلتے ہیں ایک قوی تو کل انکو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین ان کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے انکے دلوں میں رکھی جاتی ہے اگر انکے وجودوں کو ہادنِ مصائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دیکر نچوڑا جائے تو ان کا عرق بجز حب الہی کے اور کچھ نہیں۔دنیا ان سے ناواقف اور وہ دنیا سے دور تر و بلند تر ہیں۔خدا کے معاملات ان سے خارق عادت ہیں انہیں پر ثابت ہوا ہے کہ خدا ہے انہیں پر کھلا ہے کہ ایک ہے جب وہ دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی سنتا ہے۔جب وہ پکارتے ہیں تو وہ انہیں جواب دیتا ہے جب وہ پناہ چاہتے ہیں تو وہ ان کی طرف دوڑتا ہے وہ باپوں سے زیادہ ان سے پیار کرتا ہے اور ان کی درودیوار پر برکتوں کی بارش برساتا ہے پس وہ اس کی ظاہری و باطنی و روحانی و جسمانی تائیدوں سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ ہر یک میدان میں ان کی مدد کرتا ہے۔کیونکہ وہ اس کے اور وہ ان کا ہے۔سرمہ چشم آریہ۔رخ- جلد 2 صفحہ 79 حاشیہ) یہودی: چونکہ توریت پر عمل نہیں رہا۔اس لیے ولی اور صلحا نہیں ہوتے۔حضرت اقدس: اگر توریت میں کوئی تاثیر باقی ہوتی تو اسے ترک ہی کیوں کرتے ؟ اگر آپ کہیں کہ بعض نے ترک کیا ہے تو پھر بھی اعتراض بدستور قائم ہے کہ جنہوں نے ترک نہیں کیا۔ان پر جو اثر ہوا ہے وہ پیش کرو۔اور اگر کل ہی نے ترک کر دیا ہے تو یہ ترک تا شیر کو باطل کرتا ہے۔ہم قرآن شریف کے لیے یہی نہیں مانتے۔یہ سچ ہے کہ اکثر مسلمانوں نے قرآن شریف کو چھوڑ دیا ہے۔لیکن پھر بھی قرآن شریف کے انوار و برکات اور اس کی تاثیرات ہمیشہ زندہ اور تازہ تازہ ہیں: چنانچہ میں اس وقت اسی ثبوت کے لیے بھیجا گیا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے اپنے وقت پر اپنے بندوں کو اس کی حمایت اور تائید کے لیے بھیجتارہا ہے۔کیونکہ اس نے وعدہ فرمایا تھا۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ (الحجر: 10 ) یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر ( قرآن شریف) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔