حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 398
398 يَأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَانَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ۔(يونس: 58) قرآن میں دلوں کو روشن کرنے کے لئے ایک روحانی خاصیت بھی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے شِفَاء لِمَا فِي الصُّدُورِ یعنی قرآن اپنی خاصیت سے تمام بیماریوں کو دور کرتا ہے اس لئے اس کو منقولی کتاب نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کے معقول دلائل اپنے ساتھ رکھتا ہے اور ایک چمکتا ہوا نو ر اس میں پایا جاتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 433) یہ قرآن ظلمت سے نور کی طرف نکالتا ہے۔اور اس میں تمام بیماریوں کی شفاء ہے اور طرح طرح کی برکتیں یعنی معارف اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے امور اس میں بھرے ہوئے ہیں۔(کرامات الصادقین۔۔۔خ۔جلد 7 صفحہ 59) اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللهِ يَهْدِى بِهِ مَنْ يَّشَاءُ وَ مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَالَهُ مِنْ هَادٍ۔(الزمر: 24) يَعْنِي ذَالِكَ الْكِتَابُ كِتَابٌ مُّتَشَابِةٌ يَشْبَهُ بَعْضُهُ بَعْضًا لَيْسَ فِيْهِ تَنَاقُضْ وَلَا اخْتِلَاقِ مَفْنى فِيْهِ كُلُّ ذِكْرٍ لِيَكُوْنَ بَعْضُ الذِكْرِ تَفْسِيْرًا لِبَعْضِهِ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ يَعْنِي سَيَسْتَوِلِى جَلَالُهُ وَهَيْبَتُهُ عَلى قُلُوبِ الْعُشَّاقِ لِتَقْشَعِرَ جُلُودُهُمْ مِنْ كَمَالِ الْخَشْيَةِ وَالْخَوْفِ يُجَاهِدُوْنَ فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَيْلًا وَنَهَارًا بِتَحْرِيْكِ تَأْثِيرَاتِ جَلَالِيَّةِ وَتَنْبِيْهَاتٍ قَهْرِيَّةٍ مِّنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ يُبَدِّلُ اللَّهِ حَالَتَهُمْ مِّنَ التَّأَلُم إِلَى التَّلَذُّذِ فَيَصِيْرُ الطَّاعَةُ جُزْوَ طَبِيْعَتِهِمْ وَخَاصَّةً فِطْرَتِهِمْ فَتَلِيْنُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ يَعْنِي لِيَسِيْلَ الذِّكْرُ فِي قُلُوْبِهِمْ كَسَيَلَانِ الْمَاءِ وَيَصْدُرُ مِنْهُمْ كُلُّ أَمْرِ فِي طَاعَةِ اللَّهِ بِكَمَالِ السُّهُوْلَةِ وَالصَّفَاءِ لَيْسَ فِيْهِ ثِقَلٌ وَّلَا تَكَلُّفٌ وَّلَا ضَيْقَ فِي صُدُوْرِهِمْ بَلْ يَتَلَذَّذُوْنَ بِاِمْتِثَالِ أَمْرِ الهِهِمْ وَ يَجِدُوْنَ لَذَّةً وَّ حَلَاوَةً فِي طَاعَةِ مَوْلَهُمْ وَهَذَا هُوَ الْمُنْتَهَى الَّذِيْ يَنْتَهِي إِلَيْهِ أَمْرُ الْعَابِدِيْنَ وَالْمُطِيْعِيِّينَ فَيُبَدِّلُ اللَّهُ الاَ مَهُمْ بِاللَّذَّاتِ۔( ترجمه از ایڈیٹر (الحق) یعنی یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ان میں کوئی تنقض اور اختلاف نہیں۔ہر ذکر اور وعظ اس میں دو ہرا دو ہرا کر بیان کئے گئے ہیں جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے مقام کے ذکر کی تفسیر ہو جائے۔اس کے پڑھنے سے ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت عاشقوں کے دلوں پر غالب ہو