حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 389 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 389

389 اب اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلام پاک اور مقدس کا کمال تین باتوں پر موقوف قرار دیتا ہے۔اول یہ کہ أَصْلُهَا ثَابِت یعنی اصول ایما نیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور فی حد ذاتہ یقین کامل کے درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں اور فطرت انسانی اس کو قبول کرے کیونکہ ارض کے لفظ سے اس جگہ فطرۃ انسانی مراد ہے جیسا کہ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ کا لفظ صاف بیان کر رہا ہے۔۔۔۔خلاصہ یہ کہ اصول ایمانیہ ایسے چاہئیں کہ ثابت شدہ اور انسانی فطرۃ کے موافق ہوں۔پھر دوسری نشانی کمال کی یہ فرماتا ہے کہ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ یعنی اس کی شاخیں آسمان پر ہوں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں یعنی صحیفہ قدرت کو غور کی نگاہ سے مطالعہ کریں تو اس کی صداقت ان پر کھل جائے اور دوسری یہ کہ وہ تعلیم یعنی فروعات اس تعلیم کے جیسے اعمال کا بیان احکام کا بیان اخلاق کا بیان یہ کمال درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں جس پر کوئی زیادہ متصور نہ ہوجیسا کہ ایک چیز جب زمین سے شروع ہو کر آسمان تک پہنچ جائے تو اس پر کوئی زیادہ متصور نہیں۔پھر تیسری نشانی کمال کی یہ فرمائی کہ تُؤْتِي أكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ ہر ایک وقت اور ہمیشہ کے لیے وہ اپنا پھل دیتا رہے ایسا نہ ہو کہ کسی وقت خشک درخت کی طرح ہو جاوے۔جو پھل پھول سے بالکل خالی ہے۔اب صاحبود یکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرموده الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ کی تشریح آپ ہی فرما دی کہ اس میں تین نشانیوں کا ہونا از بس ضروری ہے سوجیسا کہ اس نے یہ تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں اسی طرح پر اس نے ان کو ثابت کر کے بھی دکھلا دیا ہے اور اصول ایمانیہ جو پہلی نشانی ہے جس سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے اس کو اس قدر بسط سے قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ اگر میں تمام دلائل لکھوں تو پھر چند جزو میں بھی ختم نہ ہوں گے۔جنگ مقدس - ر - خ - جلد 6 صفحہ 124-123 ) غرض یہ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ مسلمانوں کے لیے کیسے فخر کی بات ہے۔اکمال سے یہی مطلب نہیں کہ سورتیں اتار دیں بلکہ تکمیل نفس اور تطہیر قلب کی وحشیوں سے انسان پھر اس کے بعد عقل مند اور با اخلاق انسان اور پھر باخدا انسان بنا دیا۔اور تطہیر نفس - تکمیل اور تہذیب نفس کے مدارج طے کر دیے اور اسی طرح پر کتاب اللہ کو بھی پورا اور کامل کر دیا یہاں تک کہ کوئی سچائی اور صداقت نہیں جو قرآن شریف میں نہ ہو۔میں نے اگنی ہوتری کو بار ہا کہا کہ کوئی ایسی سچائی بتاؤ جو قرآن شریف میں نہ ہو مگر وہ نہ بتاسکا۔ایسا ہی ایک زمانہ مجھ پر گذرا ہے کہ میں نے بائیل کو سامنے رکھ کر دیکھا جن باتوں پر عیسائی ناز کرتے ہیں وہ تمام سچائیاں مستقل طور پر اور نہایت ہی اکمل طور پر قرآن مجید میں موجود ہیں۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں کو اس طرف توجہ نہیں وہ قرآن شریف پر تدبر ہی نہیں کرتے اور نہ ان کے دل میں کچھ عظمت ہے ورنہ یہ تو ایسا فخر کا مقام ہے کہ اس کی نظیر دوسروں میں ہے ہی نہیں۔غرض الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ کی آیت دو پہلو رکھتی ہے ایک یہ کہ تمہاری تطہیر کر چکا دوئم کتاب مکمل کر چکا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 673-672)