حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 383
383 فَإِلَّمْ يَسْتَجِيْبُوْالَكُمْ فَاعْلَمُوْا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا هُوَ 0 فهل انتم مِّسْلِمُونَ۔(هود: 15) پس جبکہ من کل الوجوہ ثابت ہے کہ جو فرق علمی اور عقلی طاقتوں میں مخفی ہوتا ہے وہ ضرور کلام میں ظاہر ہو جاتا ہے اور ہرگز ممکن ہی نہیں کہ جو لوگ من حیث العقل والعلم افضل اور اعلیٰ ہیں وہ فصاحت بیانی اور رفعت معانی میں یکساں ہو جائیں اور کچھ مابہ الامتیاز باقی نہ رہے تو اس صداقت کا ثابت ہونا اس دوسری صداقت کے ثبوت کومستلزم ہے کہ جو کلام خدا کا کلام ہو اس کا انسانی کلام سے اپنے ظاہری اور باطنی کمالات میں برتر اور اعلیٰ اور عدیم المثال ہونا ضروری ہے کیونکہ خدا کے علم تام سے کسی کا علم برابر نہیں ہو سکتا اور اسی کی طرف خدا نے بھی اشارہ فرما کر کہا ہے فَالَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللهِ الجزو نمبر 12 یعنی اگر کفار اس قرآن کی نظیر پیش نہ کرسکیں اور مقابلہ کرنے سے عاجز رہیں تو تم جان لو کہ یہ کلام علم انسان سے نہیں بلکہ خدا کے علم سے نازل ہوا ہے جس کے علم وسیع اور نام کے مقابلہ پر علوم انسانیہ بے حقیقت اور بیچ ہیں۔اس آیت میں برہان انی کی طرز پر اثر کے وجود کو مؤثر کے وجود کی دلیل ٹھہرائی ہے جس کا دوسرے لفظوں میں خلاصہ مطلب یہ ہے کہ علم الہی بوجہ اپنی کمالیت اور جامعیت کے ہرگز انسان کے ناقص علم سے متشابہ نہیں ہو سکتا بلکہ ضرور ہے کہ جو کلام اس کامل اور بے مثل علم سے نکلا ہے وہ بھی کامل اور بے مثل ہی ہو اور انسانی کلاموں سے بکلی امتیاز رکھتا ہو۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 240-232) قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوْا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا۔(بنی اسرائیل: 89) ان منکرین کو کہہ دے کہ اگر تمام جن و انس یعنی تمام مخلوقات اس بات پر متفق ہو جائے کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنانی چاہئے تو وہ ہر گز اس بات پر قادر نہیں ہوں گے کہ ایسی ہی کتاب انہیں ظاہری باطنی خوبیوں کی جامع بنا سکیں۔اگر چہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔سرمه چشم آریہ - ر-خ- جلد 2 صفحہ 61 حاشیہ) اس میں کیا کلام ہے کہ قرآن کریم اپنی بلاغت اور فصاحت کے رو سے بھی بے نظیر ہے لیکن قرآن کریم کا یہ منشاء نہیں ہے کہ اس کی بے نظیری صرف اسی وجہ سے ہے بلکہ اس پاک کلام کا یہ منشاء ہے کہ جن جن صفات سے وہ متصف کیا گیا ہے ان تمام صفات کے رو سے وہ بے نظیر ہے مگر یہ حاجت نہیں کہ وہ تمام صفات جمع ہو کر بینظیری پیدا ہو بلکہ ہر یک صفت جدا گانہ بینظیری کی حد تک پہنچی ہوئی ہے۔کرامات الصادقین - ر - خ - جلد 7 صفحہ 51-50)